Home / Stories / Have A Safe Pregnancy Delivery

Have A Safe Pregnancy Delivery

A woman counts each day of her pregnancy, eagerly waiting for the time when pregnancy delivery will take place. There are a total of 37 to 40 weeks of pregnancy. It is safe to have a pregnancy delivery, anytime between the 37th to the 42nd week. Delivery before this period can lead to problems for the health of the mother and the baby. Hence, the later the pregnancy labor, the better for mother and child, but it should not be later than 42 weeks.

عورت صرف بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں

عورت کی زندگی کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ صرف اتنا کہ وہ جوانی کو پہنچے تو شادی ہوجائے؟ کیا لڑکی کی زیادہ پڑھنے کی خواہش اس کی شادی میں رکاوٹ ہوتی ہے؟ ایک لڑکی کی شادی کس عمر میں ہو جانی چاہئے؟ کیا وقت پر شادی ہو جانا عورت کی صحت مند زندگی کی ضمانت ہوتا ہے؟ لڑکی کی صحت کتنی ضروری ہوتی ہے؟ اچھی صحت کی شناخت کا کیا پیمانہ ہوتا ہے؟

بس یہ کے لڑکی لمبی، چاق و چوبند ہو؟ بجلی کی طرح پھرتیلی؟ کیا مرد کا عورت سے شادی کرنا صرف اولاد کا ہی حصول ہوتا ہے؟۔ اگر مرد کی عمر زیادہ ہے اور لڑکی کی کم تو کیا یہ لڑکی کا قصور ہے کہ وہ ہر سال نیا مہمان گھر لائے؟ کچھ افراد عورت کو صرف مشین سمجھتے ہیں جو ان کی مرضی سے بچے پیدا کرے، کیونکہ اچھی بیوی وہ ہی ہوتی ہے جو شوہر کا حکم بجا لائے، کیا عورت کو ہر بات شوہر کی ماننی چاہئے؟ اگر ایک عورت کو نظر آ رہا ہے کہ اس کا شوہر انتہائی لاپرواہ ہے جسے نہ گھر سے کوئی مطلب ہے نہ بچوں سے، وہ صرف کماتا ہے اور گھر آ کر سو جاتا ہے ، اپنی صحت پر بھی ذرا نظر ثانی فرماٗئیں کہ پال سکتی بھی ہیں ہر سال نئے مہمان کو اور شوہر کو جو ہر مسئلے کا حل اپنی بیگم کو ہی سمجھتا ہے۔۔پاکستان میں نہ جانے کتنی خواتین غذائی قلت کے باعث موت کو منہ لگا لیتی ہیں، اگر آپ کی صحت اور وسائل اس نوعیت کی ہیں کہ آپ بچوں اور اپنی، دونوں کی صحت کا خیال رکھ سکتی ہیں، کھلانے کو کھانا اور پہنانے کو کپڑے ہیں، گھر والے آپ کے ساتھ دوستانہ ہیں، آپ سے اور آپ کے بچوں کا خیال رکھنے کا درد ہے تو ضرور پیدا کریں مگر صحت کو نظر انداز نہیں کریں، کیونکہ آپ کی صحت ہوگی تو ہی آپ بچے پال سکیں گی، آپ کی زندگی کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا نہیں ہوتا، ایک ماں کو بچوں کی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے، پیسے کی ضرورت پڑتی ہے، اچھا ہمدرد شوہر چاہئے ہوتا ہے جسے بحیثیت

شوہر اپنی ذمے داریوں کا احساس ہو، اگر آپ کا شوہر اس قابل نہیں تو اپنے وجود اور بچوں کے مستقبل پر رحم فرمائیے، شادی سزا نہیں ہوتی اور شوہر حاکم اور آپ ملازم نہیں ہوتیں، ہمارے ہاں بس یہی رجحان پایا جاتا ہے کہ بس جلدی جلدی بچے ہوں گے تو ایک ساتھ بڑے ہوجائیں گے، ماں کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی یہ نہیں سوچتے کہ ہر بچہ الگ توجہ مانگتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ سب بچوں کو ایک ساتھ بھوک لگے، نیند آئے، سارے ایک ساتھ کھییلیں اور ایک ساتھ نیند لیں۔ساری محنت ماں کی ہوتی ہے، اور اگر بچے نظر انداز ہوتے ہیں تو یہ کلمات تمغے کے طور پر دے دئے جاتے ہیں، تمھیں تو تربیت کرنی ہی نہیں آتی نہ بچے صاف رہتے ہیں نہ ہی گھر، میں یہ پوچھتی ہوں کہ وہ مرد حضرات جو ہر وقت بیوی کو بچوں کی تربیت کا درس دیتے ہیں خود کتنا وقت دیتے ہیں بچوں کو؟ بچوں کا رونا انھیں پسند نہیں ہوتا، نیند میں خلل آتا ہے، پاکی نا پاکی کا الگ شور، بیوی پر الگ الزام کہ اپنا خیال رکھنا نہیں آتا، اچھے کپڑے پہنا کرو، کیا حال بنا رکھا ہے، بچوں کو نہلا بھی دیا کرو، کوئی آئے گا تو کیا سوچے گا میری کیسی بیوی ہے، گھر کیسا رکھا ہوا ہے۔ اس قسم کے مرد حضرات سے سوال کرنے کو دل چاہتا ہے کہ بھائی آپ نے بیگم کا کتنا خیال رکھا ہے؟ صرف اتنا کہ آپ اسے اپنی تنخواہ میں سے کچھ پیسے ہر ماہ دے دیا کرتے ہیں، اسے اپنے کمرے میں بچوں کی فوج ظفر موج کے ہمراہ رہنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور بعض اوقات خود کسی اور کمرے میں جاکر آرام فرما لیتے ہیں

تاکہ بیوی بچوں کے ساتھ سکون سے سوئے، شاید ہی سو میں سے کوئی پانچ فیصد مرد ایسے ہوتے ہیں جو بیوی کی صحت اور بچوں کی پرورش کے حوالے سے حساس اور فکرمند ہوتے ہیں اور آمدنی کو مد نظر رکھ کر فیملی پلان کرتے ہیں اور گھریلو معاملات کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور بیوی کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مرد ہو یا عورت شادی کا مقصد بچوں کی گنتی پورا کرنا نہیں ہونا چاہئے،۔۔عورت کے منہ میں بھی خدا نے زبان دی ہے کہ وہ اپنے حق کے حوالے سے بات کرے، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت رکھتی ہو، جائز بات سنے، اور کرے ، آپ کوئی چابی کی گڑیا نہیں ہوتیں کہ آپ شوہر کو اس کی مرضی کا تماشہ دکھاٗ ئیں، جہاں بولنا ہے بولیں اور جہاں نہیں بولنا چپ رہیں لیکن اپنی صحت اور بچوں کے مستقبل پر سمجھوتا نہ کریں، آپ زندہ رہیں گی تو بچے پالیں گی، خوش ہوں گی تو شوہر کو خوش رکھ سکیں گی

Today, a pregnant woman is fully aware of the various choices she has to make before pregnancy delivery. She must clearly discuss them with her doctor. Whether she plans to have a natural labor or wants to use painkillers like an epidural, should be discussed in advance. Epidural is a local anesthetic, injected into the spinal cord during labor. It reduces the effect of labor pains but is known to cause long-term ill effects on the back. Therefore, the decision to take or not take the epidural is entirely the mother’s. She should also discuss what is to be done in certain unexpected situations. Therefore, a proper birth plan will enable the doctor and hospital staff to carry out things as closely as possible.

Each pregnancy delivery is distinct in its own way. The pattern of labor and final method of delivery depends on mainly two factors, i.e. physical and medical condition of the mother and position of the child inside the womb. For example, sometimes when the labor is extended into long hours, the condition of the baby is continuously monitored. The heart-beat rate and movements of the baby are checked periodically and any negative sign can call for immediate action, like a caesarean delivery. Therefore, a doctor cannot prefigure exactly what will happen at the time of delivery.

About admin

Check Also

معجزہ قرآن پاک کا

ایک صاحب اور ان کی بیوی پر کسی جادوگر نے انتہائی سخت جادو کا وار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *