Home / Islamic Stories / Feeling Insured

Feeling Insured

Frequently considerations of decentralized technology’s future social implications present freshly differentiated images of somehow superior methodologies that may be radically different than the present day. Yet the decentralized recording of centrally controlled operations could instead be a marked degradation to both the technology’s potential and developmental promise. Without an equivalent preceding structural change, the introduction of decentralized technologies into established industries wishing to bolster rather than improve service offerings should give us all great cause for concern.

In a factually based, well-known business school anecdote a case of one of the first life insurance claims is often repeated. Shortly after this type of policy became available a life insurance policy holder did indeed pass away during the applicability of his high-payout protection. When the family of the deceased attempted to claim, the insurer wrote a new definition of how their company calculated ‘one year’ so as to [successfully] avoid settlement.

عورتوں کےلیے کون سی چیز بہتر ہے؟


حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ایک واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپس میں بات چیت کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے پوچھا کہ بتاؤ عورتوں کیلئے کیا چیز بہتر ہے؟ تو جوابا مختلف باتیں ہوتی رہیں کہ اچانک کسی کام سے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو گھر جانا پڑگیا

تو انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھ لیا کہ دربارِ نبوت میں یہ بات پوچھی جارہی ہے کہ عورت کیلئے کیا بہتر ہے۔ اگر آپ کچھ بتاسکتی ہیں تو بتائیں۔ بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فر مایا : عورتوں کیلئے بہتر یہ ہے کہ نہ تو وہ کسی نامحرم کو دیکھیں اور نہ ان کو کوئی نامحرم دیکھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ بات حضرت محمد صلى اللہ علیہ وآلہ و سلم کی دربار میں پہنچادی – جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے یہ بات سنی تو فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تو میرے جگر کا ٹکڑا ہیں – یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ و سلم کو اس بات سے خوشی ہوئی۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا واقعہ: یہ کون ہیں؟ دوہزار دوسو دس احادیث مبارکہ ان سے روایت ہیں – ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ و سلم نے فرمایا کہ میری عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تو آدھا دین ہیں۔ اب جن کو آدھا دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم فرمارہے ہیں ان کا عمل کیا ہے؟ امام احمد رحمۃاللہ علیہ نے روایت کی ہے امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی علیہ السلام میرے کمرے میں رہتے تھے۔ اللہ رب العزت کی شان نبی علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے اپنے پاس بلالیا تو میرے کمرے میں آپکی قبر مبارک بنی۔ فرماتی ہیں کہ جب قبر بن گئی تو میں معمول کے مطابق اس کمرے میں آتی جاتی رہتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم تو میرے خاوند ہیں پردے کی تو بات نہیں۔

پھر فرماتی ہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد میرے والد یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انتقال ہوا تو وہ بھی وہیں آگئے۔ فرماتی ہیں کہ اب ایک تو میرے خاوند ہوگئے اور ایک میرے والد۔ تو اب بھی میں اسطرح آتی جاتی رہتی تھی ۔کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر مبارک بھی وہاں بنی تو فرماتی تھیں کہ اب میں پردے سے جاتی تھی۔

Spoken of as commendable industrial ingenuity or defenseless profiteering would most likely depend on whether it was relayed in a strategy or ethics lecture. However, with this tale in mind we now turn to the introduction of blockchain technologies within the insurance industries:

About admin

Check Also

When is the End of Times Coming? – End of the World?

This is a great question and if one is to believe all that has been …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *