Home / Stories / معجزہ قرآن پاک کا

معجزہ قرآن پاک کا

ایک صاحب اور ان کی بیوی پر کسی جادوگر نے انتہائی سخت جادو کا وار کیا یہ جادوگر اس جادو پر باقاعدہ پہرہ بھی دیا کرتا اور کسی عامل کو اس کا توڑ نہ کرنے دیتا۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ ان کی بیوی کے ہاں اول تو حمل ہی نہ ٹھہرتا اور اگر ٹھہر بھی جاتا تو ساقط ہوجاتا اگر کسی طریقہ 9 ماہ پورے ہوتے تو بچے کی پیدائش مردہ حالت میں ہوتی۔ یہ صاحب انتہائی باکردار اور پانچ وقت کے نمازی تھے اور بچوں کو مسجد میں قرآن بھی پڑھایا کرتے تھے۔ بہت علاج کروائے بڑے سے بڑا عامل بلوایا اور علاج کروایا اور ایڑی چوٹی کا زور لگادیا مگر نتیجہ صفر نکلتا۔ ایک دن ایک انتہائی درویش باعمل عالم اور عامل کے پاس جانا ہوا۔ یہ صاحب اپنے استخارہ کے لیے مشہور تھے اور ان کاان کا استخارہ ایک منٹ کا ہوا کرتا تھا۔

ایک منٹ میں سارا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیتے۔ اللہ نے بہت عطا کیا تھا ان کو اب یہ پریشانی لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولوی صاحب نے بتایا کہ یہ کسی عام زور آور جادوگر کا وار نہیں بلکہ یہ تو کسی خبیث العین (جادو کی دنیا کا انتہائی غلیظ اور ماہر جادوگر) کا وار ہے اور یہ میرے بس سے باہر ہے۔ میں اس عمر میں اتنی سخت محنت نہیں کرسکتا۔ اس کا توڑ بھی کوئی خبیث العین ہی کرسکتا ہے۔یہ چونکہ مجبور تھے اس لیے پوچھنے لگے کہ کچھ تو حل ہوگا۔ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ سندھ کے فلاں علاقے فلاں جگہ پر ایک گاؤں کے باہراسی خبیث العین نے ان دنوں ڈیرہ لگایا ہے تو فوراً اس کے پاس چلا جا۔یہ صاحب فوراً سندھ روانہ ہوگئے اور جیسے ہی اس گاؤں کے باہر پہنچے تو دور سے ایک آگ کا دہکتاالاؤ لگا ہوا دکھائی دیا۔ انہوں نے بزرگوں کی بتائی ہوئی نشانی دیکھ کر اس کی طرف بڑھنا شروع کیا دور سے دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی آگ کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور اردگرد اس کے ماننے والوں کا جمگٹھا ہے۔ ابھی ایک ایکڑ دور تھے کہ وہ شخص اچھل کر کھڑا ہوگیا اور زور زور سے چلانے لگا کہ وہ دیکھو آگیا جادو کا ڈسا وہ آگیا قرآن پڑھانے والا یہ اس کے پاس پہنچے اور اپنا مقصد بتایا۔ اب خبیث العین خوشی سے پاگلوں کی طرح ناچنے لگا اور بولا جاؤ فلاں کے پاس جاؤ فلاں کے پاس یہ گرہ جولگی ہے کھلواؤ اپنے مولویوں سے غرض اس نے مولوی صاحبان کے ساتھ ساتھ ان صاحب کو بھی برا بھلا کہا اور بڑے بڑے خدائی کے دعوے بھی کیے اور جادو توڑنے سے انکار کردیا۔یہ صاحب واپس آئے اور اپنے رب کو پکارا کہ یااللہ! یہ بھی مخلوق ہے تو چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا یہ ظالم مجھ پر غالب آگئے ہیں اور ظلم کرنے سے باز نہیں آرہے اور رو رو کے اللہ کے حضور التجائیں کیں۔

دفعتاً دل میں القا ہوا کہ جادو کا توڑ تو آقا ﷺ نے معوذتین سے کیا تھا اور جادو بھی انتہائی سخت بلکہ آخری درجے کا تھا جب آقاﷺ نے معوذتین سے یہ جادو توڑا تو میں بھی معوذتین ہی پڑھتا ہوں۔اب انہوں نے اللہ کا نام لیا اور اسی رات سے باوضو ہوکر مسجد میں جاکر معوذتین اس جادو کی توڑ کی نیت سے پڑھنی شروع کی۔ یہ پوری رات پڑھتے رہے اور وقتاً فوقتاً دن کو بھی ورد چلتا رہتا ہر وقت باوضو رہنے لگے غالباً چھٹے دن رات کو اونگھ آگئی اور اچانک خون کی پوری بالٹی ان کے اوپر جیسے کسی نے گرا دی ہو۔ یہ بہت پریشان ہوئے اٹھے مسجد کے ساتھ ہی کنواں تھا وہاں نہائے دھوئے اور کپڑے بھی پاک کیے مسجد دھوئی۔ اب سوچا بی بی کی بھی خبر لوں گھر پہنچے تو وہاں بھی یہی حال تھا اور بیوی انتہائی پریشان تھی۔ بیوی کو دلاسہ دیا اور فرمانے لگے کہ بھلی مانس اب کچھ ہلچل ہوگئی ہے انشاء اللہ اب کام بن جائے گا۔ایک نئے ولولے سے اسی رات سے پھر دوبارہ مسجد میں عمل شروع کردیا نویں دن پھر وہی ہوا اونگھ آئی اور دونوں میاں بیوی پر خون کی بالٹی گرادی گئی۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پڑھنا جاری رکھا۔ تیرہویں دن صبح کے وقت وہی سندھ والا خبیث العین مسجد میں داخل ہوا اور آتے ہی پیروں میں گر کے معافیاں مانگنے لگا۔ ان صاحب نے اسے بولا کہ تو مجھ سے کیوں معافیاں مانگ رہا ہے؟ کہنے لگا کہ اللہ کے واسطے مجھے معاف کردیجئے پھر بتاؤں گا۔ انہوں نے معاف کردیا اور وجہ پوچھی۔

کہنے لگا کہ آپ میاں بیوی پر جادو میں نے کیا تھا جب آپ مسجد میں عمل کرنے بیٹھے تومیں بھی آپ کے مقابلے پر بیٹھ گیا اور روزانہ میرا کیا ہوا جادو مجھ پر ہی الٹا چلنے لگا اور میرے مؤکل میرے دشمن ہوگئے۔ یہ صاحب فرمانے لگے کہ اگر یہ بات تو نے مجھے پہلے بتا دی ہوتی تو تجھے میں کبھی معاف نہ کرتا۔ بہرحال یہ جادوگر معافی مانگ کر اپنی جان بچا کر واپس سندھ لوٹ گیا۔ کیونکہ اگر وہ معافی نہ مانگتا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا مگر جادوگر کی صلح کا اعتبار بھی نہ کیا اور اکتالیس دن مسلسل عمل کرتے رہے اس کے بعد اللہ نے ان کو نرینہ صحت مند اولاد سے نوازا اور دو سے زائد بیٹے عطا فرمائے اور بندش ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گئی

About admin

Check Also

ساس سے چھٹکارا

یک لڑکی جس کا نام تبسم تھا اس کی شادی ہوئی وہ سسرال میں اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *