Home / Islamic Stories / اگر کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنی بیوی کو بلائے

اگر کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنی بیوی کو بلائے

اگر کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنی بیوی کو بلائے اور اس کی بیوی انکار کردے تو وہ گناہگار ہوتی ہے، اس کے برعکس اگر اس شخص کی بیوی اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کا کہتی ہے اور وہ شخص بغیر کسی عذر کے انکار کردے تو کیا وو شخص بھی گناہگار ہوگا
۳. اگر وہ شخص کسی عذر مثلاً نیند یا تھکن کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو بھی گناہگار ہوگا؟
جی نہیں! اگر شوہر بیوی کے تقاضہ پر بلا عذر اس کی خواہش پوری نہ کرے اور بیوی سے صحبت کئے ہوئے کافی دن گذرچکے ہوں تو ایسی صورت میں شوہر گنہگار ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ گاہے گاہے عورت کی جنسی خواہش پوری کرنا دیانتاً شوہر پر واجب ہے، اور اگر آئے دن عورت کا تقاضہ ہوتا ہو تو شوہر بلا عذر انکار کرنے کی صورت میں بھی گنہگار نہ ہوگا۔
لا فی المجامعة کالمحبة بل یستحب، ویسقط حقھا بمرة ویجب دیانة أحیاناً ولا یبلغ مدة الإیلاء إلا برضاھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، باب القسم، ۴: ۴: ۳۷۹، ۳۸۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وانظر الرد أیضاً۔
(۳): اگر شوہر بیوی کے تقاضے پر نیند یا تھکن کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو وہ گنہگار نہ ہوگا اگرچہ بیوی سے صحبت کیے ہوئے کئی دن ہوچکے ہوں؛ البتہ اگر صحبت کیے ہوئے کافی دن گذرچکے ہوں تو نیند پوری ہونے یا تھکن دور ہونے کے بعد شوہر کو بیوی کی جنسی ضرورت پوری کرنے میں ٹال مٹول نہیں کرنا چاہیے ۔
قال بعض أھل العلم: إن ترکہ لعدم الداعیة والانتشار عذر (رد المحتار، کتاب النکاح، باب القسم، ۴: ۴: ۳۷۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند، نقلاً عن الفتح)۔

About admin

Check Also

Feeling Insured

Frequently considerations of decentralized technology’s future social implications present freshly differentiated images of somehow superior …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *