Home / Islamic Stories / عورتوں کے ساتھ رات گُذارنے پر حکم

عورتوں کے ساتھ رات گُذارنے پر حکم

حقوق العباد یا ٰخدمت خلق کی قرآن واحادیث میں کس قدر تاکیدکی گئی ہے ان سب سے ہم لوگ اچھی طرح واقف ہیں، مسلم شریف کی ایک لمبی حدیث ہےاس کے ایک حصے میں اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں : وَاللّٰہُ فِی عَوْنِ الْعَبْدِ مَاکَانَ الْعَبْدُ فِی عَوْنِ أَخِیْہِ (اوراللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے)۔طبرانی میں حضرت عمرؓ کی حدیث میں ہے:سب سے بہتر عمل مومن کو خوشی پہنچانا ہے، اسے بے لباسی کی حالت میں کپڑے پہنا دو یا بھوک کی حالت میں کھانے سے آسودہ کردویا اس کی ضرورت پوری کردو۔

حضرت حسن بصریؒ نے ایک بار اپنے بعض ساتھیوں کو کسی آدمی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بھیجا اور ان سے کہا کہ حضرت ثابت ؒ بنانی کو بھی ساتھ لے لیں، جب وہ لوگ حضرت ثابت بنانی ؒ کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ میں اعتکاف میں ہوں، وہ لوگ حضرت حسن بصریؒ کے پاس لوٹ گئے اور یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ ان سے جاکر کہہ دو کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے تمہارا چلنا تمہارے لئے حج در حج سے بہتر ہے؟ ان لوگوں نے جب یہ بات حضرت ثابتؒ کو جاکر بتائی تو انہوں نے اپنا اعتکاف چھوڑدیا اور ان کے ساتھ چل کھڑے ہوئے۔

مسند احمد میں حضرت خبابؓ بن ارت کی صاحبزادی کی روایت ہے کہ میرے والد کسی جنگی مہم میں نکلے تو خود رسول اللہ ﷺ آکر ہماری بکری ہمارے ہی برتن میں دوہ جایا کرتے تھے اور وہ برتن لبریز ہوکر بہنے لگتا تھا، پھرجب حضرت خبابؓ واپس آئے تو پھر پہلے ہی کی طرح دودھ (کم) ہوگیا۔
حضرت ابوبکرؓ محلے کے لوگوں کی بھیڑ بکریاں دوہ دیا کرتے تھے۔ جب آپؓ خلیفہ ہوگئے تو کسی لونڈی نے کہا، اب وہ نہیں دوہیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے سنا تو فرمایا: مجھے امید ہے کہ اس نئی ذمّے داری سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو میں کیا کرتا تھا۔
حضرت عمرؓ بیوہ عورتوں کے یہاں رات میں پانی پہنچایا کرتے تھے، ایک دن حضرت طلحہؓ نے انہیں رات میں کسی عورت کے گھر جاتے دیکھا تو دن میں خود وہاں گئے دیکھا تو ایک اندھی معذور بڑھیا ہے۔ اس سے پوچھا کہ وہ آدمی کس لئے آتا ہے؟ تو بڑھیا نے جواب دیا، وہ کافی مدت سے یہاں آتے ہیں، میری ضرورت کی چیزیں فراہم کرتے ہیں اور صفائی وغیرہ کردیتے ہیں۔ حضرت طلحہؓ یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکلے۔ طلحہ! تمہاری ماں ہی تمہیں روئے، تم عمر کے راز تلاش کرنے چلے تھے؟

ابوداؤد نے حضرت ابو قلابہؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور اپنے ایک ساتھی کی تعریف کرنے لگے کہ اس جیسا آدمی ہم نے نہیں دیکھا، جب ہم چلتے تھے تو وہ قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول رہتے تھے اور جب ہم کہیں قیام کرتے تھے تو وہ نماز پڑھتے رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا ان کی ضروریات کون پوری کرتا تھا؟ (آپؐ ایک ایک چیز کے بارے میں دریافت فرماتے رہے یہاں تک کہ) ان کے جانوروں کو چارہ پانی کون دیتا تھا؟ ان لوگوں نے عرض کیا:ہم لوگ۔ آپ ؐ نے فرمایا : تب تم سب ان سے بہتر ہو۔
قرآن و حدیث میں حقوق العباد کی ادائیگی پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی سورۂ البلد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوارگزار کھاٹی؟کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا،یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا ۔ پھر (اس کے ساتھ یہ کہ)آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلقِ خدا پر) رحم کی تلقین کی۔‘‘(آیت:12-17)
ان آیات میں نیکی کے جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے بڑے فضائل رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں۔ مثلا فَکُّ رَقَبَۃٍ (گردن چھڑانے)کے بارے میں حضور ؐ کی بکثرت احادیث روایات میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے ایک حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا جس شخص نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میںآزاد کرنے والے شخص کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچا لے گا، ہاتھ کے بدلے ہاتھ، پاؤں کے بدلے پاؤں، شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ (مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی)۔
حضرت علی بن حسینؓ (امام زین العابدین) نے اس حدیث کے راوی سعد بن مرجانہ سے پوچھا کیا تم نے ابو ہریرہؓ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس پر امام زین العابدین نے اپنے سب سے قیمتی غلام کو بلایا اور اسی وقت اسے آزاد کردیا۔ مسلم میں بیان کیا گیا ہے کہ اس غلام کیلئے ان کو دس ہزار درہم قیمت مل رہی تھی۔ امام ابو حنیفہ اور امام شعبی نے اسی آیت کی بنا پر کہا ہے کہ غلام آزاد کرنا صدقے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صدقے پر مقدم رکھا ہے
ان سب واقعات کے سننے اور سمجھنے کے باوجود مسلمانوں میں خدمت خلق کا جذبہ آخر کیوں سرد ہے؟
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنوں اور غیروں پر رحم نہیں کرتے ،ان کی وقت پر مدد نہیں کرتے، اللہ بھی نہ ان پر رحم کرتا ہے اور نہ ہی وقت پران کی مدد کرتا ہے۔
شاید آج ہماری ذلت و رسوائی کا یہی سبب ہے !!!

About admin

Check Also

When is the End of Times Coming? – End of the World?

This is a great question and if one is to believe all that has been …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *