Home / Islamic Stories / سورۃ الرحمٰن کے کمالات

سورۃ الرحمٰن کے کمالات

سورہ رحمن کو قرآن کی زینت کہا جاتا ہے جس میں‌اللہ نے جنت کا تذکرہ اور اس میں‌بطور انعام ملنے والی نعمتوں‌کا بار بار ذکر کیا ہے . اس سورہ کی بہت سی فضیلتیں‌ذکر کی گئی ہیں‌. لیکن اس کے ساتھ یہ بہت سی بیماریوں میں‌بھی بطورعلاج وظیفہ کے طور پر پڑھا جاتا ہے . حال ہی میں‌پاکستان کے مشہور ہسپتال پمز میں‌یہ تجربہ کیا گیا ہے کہ ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں‌مریضوں‌کو سور رحمن کی تلاوت سنائی گئی . اور یہ عمل دن میں‌کئی مرتبہ کیا گیا ۔ اس عمل کے بہت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے اکثر مریض جن سے ڈاکٹر مایوس ہوگئے تھے۔

وہ بہت تیزی سے ٹھیک ہونے لگ گئے اور انہوں نے اس سورہ کو سننے کے بعد ایک طرحکا سکون محسوس کیا ان کا کہنا تھا کہ جب اس سورہ کی آواز ہمارے کانوں میں‌پڑتی تھی تو پورے جسم میں‌ایک سکون کی لہر اٹھتی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بس اب ہم اللہ کے فضل سے ٹھیک ہونے والے ہیں اور اللہ نے ہمیں‌اس جگہ سے اس سورہ کی برکت سے نجات دی اس کے ساتھ سورہ رحمن کو اگر پرڑھ کر پانی پر پھونکا جائے اور اس کو پیا جائے تو اس پانی سے ڈیپرینشن ،سردرد، یرقان اور دوسری بیماریوں کا بہترین علاج کیا جسکتا ہے۔، لیکن اس کے ساتھ نیک اعمال بھی ضروری ہے اور علاج بھی ہوناچایئے کیونکہ علاج کرانا سنت نبوی‌صلی اللہ علیہ وسلم ہے لاہور (نظام الدولہ) ہمارے ہاں اونٹ کی قربانی کا رواج عام ہوچلا ہے۔قربانی کے علاوہ عام دنوں میں بھی اونٹ کا گوشت کھایا جانے لگا ہے۔ بہت سے مسلمان سوال اٹھاتے ہیں کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نماز کیلئے دوبارہ وضو کرنا چاہئے؟۔اس حوالہ سے جب منہاج القرآن کے مفتی عبدالقیوم ہزاروی سے فتویٰ آن لائن میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کتنا لازم ہے،اس کا مستند جواب احادیث کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے صحیح مسلم کی ایک حدیث مبارکہ کا ذکر کیا کہ حضرت جابر بن سمرہؓ کے حوالہ سے معروف ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایا” اگر چاہو تو وضو کرو، اور اگر چاہو تو نہ کرو“ اس شخص نے پوچھا ”کیا ہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کریں؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا” ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کرو“ اس شخص نے پوچھا ”کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کروں؟“ آپﷺ نے فرمایا ”ہاں“ اس نے پوچھا ”کیا میں اونٹ بٹھانے کی جگہ نماز پڑھ لیا کروں؟“ آپﷺ نے فرمایا ”نہیں“ اسیطرح دوسری حدیث کا حوالہ دیا کہ حضرت اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا” اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کیا کرو، بکری کا گوشت کھا کر وضو مت کیا کرو اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھا کرو“ ان احادیثِ مبارکہ میں وضو کرنے سے مراد پانی استعمال کرنا ہے۔ اونٹ کے گوشت میں چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ہاتھ اور منہ دھونے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ان روایات میں اونٹ کا گوشت کھا کر ہاتھ دھونے اور کلی کرنے کا درس دیا گیا ہے نہ کہ باقاعدہ وضو کرنے کا۔

About admin

Check Also

Feeling Insured

Frequently considerations of decentralized technology’s future social implications present freshly differentiated images of somehow superior …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *