Home / Islamic / اکیس رمضان کا وظیفہ

اکیس رمضان کا وظیفہ

“مولانا مجیب الرحمن انقلابی: شب قدر“ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر قرار دیا ہے۔یعنی جس قدر اخلاص ومحنت کے ساتھ”شب قدر“ میں عبادت وریاضت اور دعا کی جائے اس قدر اس کے اجرو انعام میں اضافہ ہوتا چلاجائے گا․․․․حضورﷺ

نے اس شب قدر سے محروم رہنے والے شخص کو خیر سے محروم اور حقیقی محروم قراردیا ہے۔در حقیقت یہ اللہ رب العزت کی طرف سے امت محمد یہ ﷺ کی بخشش ومغفرت کیلئے بہانے ہیں کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے اور آسمانوں پر اس کی بخشش ومغفرت کے فیصلے کردیے جائیں․․․․․اور کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جنھوں نے رمضان المبارک جیسا مغفرت کا مہینہ معصیت و نافرمانی اور غفلت میں گزارنے کے بعد اب شب قدر سے بھی محروم رہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں ”سورة القدر“ کے نام سے پوری ایک سورت اس کی عظمت میں نازل فرمائی جس میں شب قدر کی خصوصیات ذکر کی گئی ہیں۔ (1)اس رات میں قرآن مجید نازل ہوا۔ (2)اس رات میں فرشتے آسمانوں سے اترتے ہیں۔ (3)یہ رات ہزار مہینوں سے افضل وبہتر ہے۔ (4)اس میں صادق تک خیرو برکت اور امن و سلامی کی بارش ہوتی ہے۔ایک روایت میں ہے شب قدر میں ملائکہ (فرشتوں)کی پیدائش ہوئی اور اسی رات میں حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا،اسی رات میں جنت میں درخت لگائے گئے اور اس رات میں عبادت کا ثواب دوسرے اوقات کی عبادت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور یہی وہ مقدس رات ہے جس میں بندہ کی زبان و قلب سے نکلی ہوئی دعا اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرتی ہے۔اسی مقدس رات میں اللہ رب العزت کی رحمتِ خاص کی تجلی آسمان ِ دنیا پر غروب آفتاب کے وقت سے

صبح صادق تک ہوتی ہے ،بعض روایات کے مطابق اسی رات(شب قدر)کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور اسی رات میں بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئیمفسرین قرآن کے مطابق لیلتہ القدر میں جو لفظ”قدر“ ہے اس کا معنی”تقدیر و حکم“ کے ہیں،چونکہ اس رات میں تمام مخلوقات کیلئے جو کچھ تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ اس کام پر مامور فرشتوں کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص”شب قدر“ میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کیلئے)کھڑا ہوا،اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔“ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضورﷺ نے نقل فرماتی ہیں لیلتہ القدر کو رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو(بخاری شریف)حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ لیلتہ القدر ستائیسویں رات ہے۔ (مسلم) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ بھی حضورﷺ سے یہی نقل کرتے ہیں کہ وہ (لیلتہ القدر)رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہے(ابن کثیر) حضورﷺنے فرمایا کہ اس رات (شب قدر )کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ وہ چمکدار اور کھلی ہوئی ہوتی ہے،صاف وشفاف ،نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی،بلکہ معتدل گویا کہ اس میں(انوار و برکات کی کثرت کی وجہ سے)چاند کھلا ہوا ہے۔اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے،

About admin

Check Also

A Relaxed and Satisfied Stay at Rose Palace Hotel in your town

Rose Palace Hotel offers a contented, calm and satisfying stay. The hotel is in close …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *