Home / Amazing and Interesting / فواد چوہدری اور رویت ہلال کمیٹی

فواد چوہدری اور رویت ہلال کمیٹی

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے، کابینہ اور اسمبلی میں اسے ختم کرنے کی بات کریں گے، چاند دیکھنے کیلئے ایپ تیار کریں گے، موبائل ایپ کے ذریعہ دیکھا جاسکے گا کہ چاند اس وقت کہاں پر ہے، رویت ہلال کمیٹی صدارتی نوٹیفکیشن کے تحت چل رہی ہے،رویت ہلال کمیٹی کے غیر آئینی ہونے کا عدالت یا پارلیمنٹ فیصلہ کرے گی۔ وہ جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز ،مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور مفتی راغب نعیمی اور مہتمم مسجد قاسم علی خان پشاور مفتی شہاب الدین پوپلزئی بھی شریک تھے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو رویت ہلال پر اتفاق ممکن ہے، ضروری نہیں کہ ہم لازماً چاند اپنی حدود کے اندر دیکھیں، ہمارے زون میں جو گلف ریاستوں اور جنوبی افریقہ تک ہے اگر وہاں شرعی طریقے سے چاند کا اعلان ہوجائے تو ہم اسے

فالو کرسکتے ہیں جس کی علماء نے اجازت بھی دی ہے۔مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو چاند دیکھنے کا اختیار حکومت کا تفویض کردہ ہے، رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو نافذ نہ کروانے پر حکومت اور وزارت مذہبی امور جوابدہ ہے ،مسجد قاسم علی خان کے تحت چاند دیکھنے کی روایت صرف ایک روایت ہے جس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا کہ مسجد قاسم علی خان پشاور میں 1825ء سے چاند دیکھنے کا سلسلہ جاری ہے، ریاست کی بنائی گئی رویت ہلال کمیٹی کی آئینی حیثیت بہت عرصہ پہلے ختم ہوچکی ہے، ہم نے کیلنڈر بنا بھی رکھا ہو تب بھی کیلنڈر کی بنیاد پر رمضان اور عید کا اہتمام نہیں کرسکتے۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نےکہا کہ مفتی منیب الرحمٰن اور پوپلزئی صاحب سمیت تمام علماء ہمارے لیے محترم ہیں، چاند کے معاملہ پر بحیثیت قوم ہم تقسیم نظر آتے ہیں،عمومی زندگی کے معاملات بہتر بنانے کیلئے سائنس و ٹیکنالوجی کا استعمال میری وزارت کا کام ہے، امام حنبل کہتے ہیں کہ ننگی آنکھ سے چاند دیکھنا چاہئے ، امام شافعی کہتے ہیں کہ چاند کا تعلق دیکھنے سے نہیں ہے یہ سائنٹیفک معاملہ ہے، وزارت سائنس یا رویت ہلال کمیٹی کسی کو بزورطاقت عید یا روزہ نہیں کرواسکتے ہیں، رویت ہلال کمیٹی کی حیثیت صرف ایڈوائزری ہے،رویت ہلال کمیٹی صدارتی نوٹیفکیشن کے تحت چل رہی ہے،کمیٹی سو سال پرانی دوربین سے چاند دیکھ رہی ہوتی ہے، سو سال دوربین کے ساتھ چاند دیکھنا حلال ہے تو ماڈرن دوربین کے ساتھ کیوں حرام ہے، اس صورت میں تو امام حنبل کی بات مان لیں کہ ننگی آنکھ سے چاند دیکھنا ہوگا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہبل ایک طاقتور دوربین ہے جو ناسا کی بھیجی ہوئی ہے، پاکستان میں بھی بہت طاقتور دوربینیں نصب ہیں، کوئٹہ میں نصب دوربین دنیا میں کہیں بھی چاند ہو اس کا بتادیتی ہے، چاند دیکھنے کیلئے ایپ بھی تیار کریں گے، اس موبائل ایپ کے ذریعہ دیکھا جاسکے گا کہ چاند اس وقت کہاں پر ہے، رویت کیلئے سائنس و ٹیکنالوجی کو فالو کرنا چاہئے، رویت ہلال کمیٹی ختم کرنا میرا اختیار نہیں ہے، رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے، کابینہ اور اسمبلی میں اسے ختم کرنے کی بات کریں گے، رویت ہلال کمیٹی کے غیر آئینی ہونے کا عدالت یا پارلیمنٹ فیصلہ کرے گی، صدارتی آرڈر جب تک چل رہا ہے اس کی حیثیت ہے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو رویت ہلال پر اتفاق ممکن ہے، فواد چوہدری کی رویت ہلال کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال اور کیلنڈر کی بات مسلمہ ہے، اسلام میں کبھی بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کی مخالفت نہیں کی گئی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے 2013ء میں سفارش کی کہ رویت اور دیگر اسلامی تہواروں کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال اور کیلنڈر کا بنانا اچھی بات ہے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے کبھی ٹیکنالوجی کے استعمال کی مخالفت نہیں کی بلکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی چاند دیکھا جاتا ہے، رویت کیلنڈر ہمیں اتنا بتاتا ہے کہ چاند موجود ہے لیکن کیا چاند کی رویت بھی موجود ہے یعنی آپ آنکھوں سے اس چاند کو دیکھ سکتے ہیں، ٹیکنالوجی بتاتی ہے کہ چاند سولہ گھنٹے سے کم عمرہے اس لئے دیکھنے کے قابل نہیں ہے، ماہرین علم فلکیات پشاور کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ جتنے متقی لوگ، علماء کرام اور حفاظ جھوٹی قسم کھارہے ہیں لیکن وہ یہاں فریب نظر کا شکار ہیں، انہوں نے یقیناً ایک چیز دیکھی جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ وہ چاند ہے لیکن فی الحقیقت یہ انہیں ابہام ہے۔ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ ہم لازماً چاند اپنی حدود کے اندر دیکھیں، مطلع کا تصور فقہی روایت میں موجود ہے، ضروری نہیں کہ ہم رویت کیلئے پاکستان تک خود کو محدود کریں، ہمارے زون میں جو گلف ریاستوں اور جنوبی افریقہ تک ہے اگر وہاں شرعی طریقے سے چاند کا اعلان ہوجائے تو ہم اسے فالو کرسکتے ہیں جس کی علماء نے اجازت بھی دی ہے۔مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو چاند دیکھنے کا اختیار حکومت کا تفویض کردہ ہے، رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو نافذ نہ کروانے پر حکومت اور وزارت مذہبی امور جوابدہ ہے ۔

About admin

Check Also

Instructions to Find Shop Vitamin Supplements

So as to fulfill the expanding interest for sound items and nutrient enhancements, shop nutrient …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *