Home / Islamic Stories / سحری کے درمیان آزان ہو جائے تو؟

سحری کے درمیان آزان ہو جائے تو؟

پچھلے سال کی طرح امسال بھی سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر بعض لوگ ابوداؤد شریف کی ایک حدیث کی آیت قرآنی اور دیگر احادیث کو مدنظر رکھے بغیرغلط تشریح کرکے یہ بات بہت زور و شور سے پھیلار ہے ہیں کہ اگر کوئی شخص سحری کررہا ہواور کھانے کابرتن اس کے ہاتھ میں ہو اوراسی حالت میں اذان فجر ہوجائے تو وہ اذان فجر کی وجہ سے کھانے سے نہ رک جائے بلکہ اپنی حاجت پوری کرلے،یعنی عوام میں یہ بات مشہورکرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سحری کے ختم ہونے کا وقت طلوع صبح صادق نہیں ہے بلکہ فجر کی اذان کے وقت بھی کھانے پینے کی کوئی چیز ہاتھ میں ہو تواس ختم کھاسکتے ہیں ،حالانکہ یہ بات قرآن وسنت کی روسےدرست نہیں ہے ،لہذاسحری کا وقت ختم ہونے کے سلسلےمیں قرآن و سنت کے احکامات کا خلاصہ پیش ِخدمت ہیں۔

(1)۔۔۔ اللہ تبارک و تعالی نے سورت بقرہ کی آیت نمبر 187میں فرمایا :
كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ
ترجمہ:’’کھاؤاورپیو یہاں تک کہ صبح کی سفیددھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہوکرتم پر واضح ہوجائے‘‘
اس آیت میں سحری کےختم ہونے کا وقت بتایا گیاہےاوراس کی تفسیر کرتےہوئےمفسرین نے’’الخیط الابیض‘‘ سے مراد صبح کاذب اور ’’الخیط الاسود‘‘ سے مراد صبح صادق بتایا ہے، لہذا معلوم ہواکہ اللہ تبارک وتعالی نے اس آیت میں سحری کےختم ہونے کا وقت صبح صادق کا طلوع ہونا بتایا ہے۔

(دیکھئےعبارات نمبر1)

تفسیربغوی اور ثعلبی میں اسی آیت کی تفسیرمیں مزیدواضح کیا کہ فجر کی دو قسمیں ہیں:
1. فجرِکاذب یا صبح کاذب: وہ روشنی جوآسمانِ افق میں بلندی کی طرف (طولاً) نظرآتی ہےاور اس کے طلوع ہونے سے نہ تو رات ختم ہوتی ہے، نہ نماز فجرجائزہےاور نہ ہی روزہ دار پرکھانا پیناحرام ہوتا ہے۔
2. فجرِصادق یا صبح صادق: وہ روشنی جوآسمانِ افق پر(عرضا) نظرآئے، اور ا
کے طلوع ہونے سے رات ختم ہوکر دن شروع ہوجاتا ہے، سحری کا وقت ختم کر روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے اورنماز فجرکا وقت شروع ہوجاتا ہے۔(دیکھئے عبارات نمبر2)
(2)۔۔۔تفاسیر اور احادیث کی کتابوں میں یہ بات تفصیل سےمذکور ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ کے دور میں ایک اذان حضرت بلالؓ دیتے تھے جو تہجد اورسحری کی اطلاع کیلئے ہوتی تھی، اوردوسری اذان حضرت عبداللہ ابن ام مکتومؓ دیتے تھے جو فجرِ(صبح) صادق کے طلوع ہونےکے بعد دیتے تھے، مذکورہ واقعہ اور دیگر احادیث سے یہ بات صراحتا ًمعلوم ہوتی ہے کہ سحری کا اختتامی وقت طلوعِ صبحِ صادق ہے اور اس کے طلوع کے بعد روزہ دار کیلئے کھانے پینے کی اجازت نہیں۔ (دیکھئے عبارات نمبر3)
(4)۔۔۔ صاحبِ تفسیرِمنیرؒ لکھتے ہیں کہ جوشخص صبح صادق طلوع ہونے کے بعد تک سحری کرتا رہا توائمہِ اربعہ کا اتفاق ہے کہ اس شخص پر اس روزہ کی قضاء واجب ہے۔ (دیکھئے عبارت نمبر4)
(5)۔۔۔ جہاں تک ابوداؤد میں موجودحدیث (إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلاَ يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِىَ حَاجَتَهُ مِنْهُ،’’جب تم میں سے کوئی (فجرکی) اذان سنے اور(کھانے یا پینے) کابرتن اس کے ہاتھ میں ہو تواسے نہ رکھے، بلکہ اس سے اپنی ضرورت پوری کرلے‘‘) کا تعلق ہے تو یہ صرف ظاہری طور پرمذکورہ بالا آیت ِقرآنی اور احادیث کے خلاف نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ حدیث کی اہم کتاب ’مشکوۃ‘ کی شرح ’مرعاۃ‘ میں اس حدیث کی تشریح میں لکھاہےکہ ’’النداء‘‘ سے مراد حضرت بلال ؓ کی اذان ہے جو کہ صبح صادق سے پہلےصبح کاذب کے وقت دی جاتی تھی(دیکھئے عبارات نمبر3اور5) اور اس بات کی تائید (کہ سحری کااختتامی وقت طلوعِ صبحِ صادق ہےنہ کہ اذانِ فجریااس کے بعد تک) ابوداؤد کی وہ تمام روایات ہیں جو ’’باب وَقْتِ السُّحُورِ‘‘ میں ذکرکی گئی ہیں جن سے صرحتا معلوم ہورہا ہے کہ سحری کے ختم ہونے کا وقت طلوعِ صبح صادق ہے. (دیکھئے عبارات نمبر6)

About admin

Check Also

Emotional speech about Last word of Prophet PBHM

What were the last words of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *