Home / Islamic / سورۃ اخلاص کا پاورفل وظیفہ

سورۃ اخلاص کا پاورفل وظیفہ

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اچھی بات لوگوں تک پہنچانا بھی صدقہ جاریہ ہے

ا سوال خاندان والے جمع ہوکرمریض کی شفا یابی کے لیےاطمنان سے سورۃ الاخلاص کو ایک ہزار مرتبہ پڑھنا چاہتے ہیں ، کیا ایسا کرنا جائز ہے یا کہ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انفرادی طور پر صرف اللہ تعالی سے اس کی شفایابی کے لیے دعا کریں اور اسی سے مدد مانگے ؟

جواب کا متن الحمد لل اس میں کوئ شک وشبہ نہیں کہ قرآن مجید میں لوگوں کے لیے شفا ہے ، جیسا کہ بعض آیات اور سورتوں میں بھی یہ وارد ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کے حکم سے انسان کے لیے شفا اورحفاظت اور تکالیف ومصائب سے نجات ہے ، مثلا سورۃ الفاتحۃ ، اور معوذات ( قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ) اور آیۃ الکرسی ، اورسورۃ الاخلاص ۔ جوشخص بھی قرآنی آیات اور سورتوں کو تین یا سات مرتبہ یا حسب ضرورت پڑھے لیکن جس کی شرع نے تعداد متعین نہیں کی وہ بھی اس کی تعداد کاتعیین اورالتزام کیے بغیر پڑھے تواس میں کوئ‏ حرج نہیں اور اس میں بھی اسے یہ اعتقاد رکھنا چاہۓ کہ شفا اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے جس نے قرآن مجید میں شفا رکھی ہے ۔

اوران آیات کے ساتھ اگر وہ دعائيں جو کہ دم کرنے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہیں بھی ملا لی جائيں تو نورعلی نور ہے مثلا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول : ( اذھب الباس رب الناس اشف انت الشافی لا شفاء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما ) اے لوگوں کے رب تکلیف دورکردے اور شفا یابی سے نواز شفا دینے والا تو ہی ہے تیری شفاء کے علاوہ اورکوئ شفا نہیں ایسی شفا نصیب کر جو کوئ بیماری نہ چھوڑے ۔ صحیح بخاری ( 5243 ) صحیح مسلم (4061 ) ۔ اورجس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیف سے دوچار صحابی کونصحیت کی جب بھی جسم کے کسی حصہ میں درد ہو وہاں ھاتھ رکھواور تین دفعہ بسم اللہ پڑھ کرسات مرتبہ یہ دعا پڑھو : ( اعوذ باللہ وقدرتہ من شرمااجد و احاذر ) میں اللہ تعالی کی عزت اور قدرت کی پناہ پکڑتا ہوں اس چیزکے شر سے جو میں پاتا ہوں اورجس سے میں ڈرتا ہوں ۔ اوراس کے علاوہ وہ دوسری دعائیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح اور ثابت ہیں ان کا ان آیات و‎سورتوں کے ساتھ بہت ہی اچھاہے ۔ جب اللہ تعالی پر توکل اور جوآیات و دعا‏ئيں پڑھی جارہی ہوں ان کے معانی پرغوروفکر اور فھم اور اس کے ساتھ ساتھ دم کرنے اور کروانے والا صالح بھی ہو یہ ساری اشیاء جمع ہوجائيں تو اللہ کے حکم سے نفع ہوگا ۔ جوکچھ اوپر بیان کیا گیا اس کی بنا پر اس طرح جمع ہونا جس طرح کہ سوال میں بیان کیا گیا اکٹھے ہوکر سورۃ الاخلاص کو اس معین تعداد ( 1000 ) میں پڑھنا ایک غیر شرعی عمل ہے ،

آپ کے لیے وہی کافی ہے جو سنت نبویہ میں بیان کیا گیا ہے جو کہ ثابت اورصحیح ہے ۔ ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کے مریض کوشفایابی عطافرماۓ اور اسے لباس عافیت سے نوازے ، آمین ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ . مغرب میں ’’آزادی‘‘ کا تصور مغرب میں تو والدین کا بھی بچوں کو ڈانٹنا اس کی آزادی پر پابندی کے مترادف اور جرم ہے۔ اس طرح کی اس معاشرہ میں ہے۔ لعنت ہے ایسی فریڈم پر جہاں ماں باپ بچے کی اصلاح کے لئے بھی اس کو نہیں ڈانٹ سکتے۔ وہاں اگر بچہ سات سال کا ہوجائے تو ماں باپ اس کی الماری نہیں کھول سکتے، چیک نہیں کرسکتے کہ اس کی الماری میں کیا ہے؟ نشہ آور اشیائ، شراب افیون، ہیروئن وغیرہ تو نہیں رکھی۔ اگر وہ اس کی الماری کو کھول دیں تو بچے کا حق ہے کہ وہ پولیس کو بلالے کہ میری (نجی زندگی) میں مداخلت کی ہے۔ وہاں ماں باپ رو رہے ہیں کہ بچے ان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ اس کا نام ’’آزادی‘‘ ہے۔ ٹیچر سکولوں میں روز بچوں کو بتاتے ہیں کہ یہ تمہارے حقوق ہیں، اگر ماں باپ تمہیں ڈانٹیں تو پولیس کے نمبر پر فوری کال کرو۔ وہ ہر بچے کو پولیس کا نمبر یاد کرواتے ہیں۔ کئی مثالیں وہاں موجود ہیں کہ گھروں میں ماں باپ نے ڈانٹا تو چار پانچ سال کے چھوٹے سے بچے نے چپکے سے کال کرکے پولیس کو بلالیا اور انہیں گرفتار کروادیا۔ وہ سوسائٹی کو اس سمت لے جانا چاہتے ہیں، اس لئے کہ ان کا ہے کوئی نہیں۔ وہ پوری سوسائٹی کو بے وارث بنانا چاہتے ہیں۔ اقدار، ادب و احترام، اطاعت جیسی کسی چیز پر وہ یقین نہیں رکھتے۔ ہر شے میں انہیں آزادی حاصل ہے اور پوری تباہی اور ہلاکت کا نام انہوں نے آزادی رکھ دیا ہے جبکہ ہمارے ہاں آزادیوں کی ایک حد ہے۔ اہل مغرب نے زندگی کے ہر شعبے میں پابندیوں کے قوانین بنا رکھے ہیں۔ ٹریفک، ٹیکس، کاروبار، سکول کے یونیفارم اور اوقات کار میں پابندیاں ہیں۔ مگر جب اقدار اور شرم و حیاء کا معاملہ آتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہمیں پابندی نہیں بلکہ آزادی چاہئے۔ دنیا کے ہر معاملہ اور شے میں پابندی ہے، اگر پابندی نہیں ہے تو انسان کی روحانی اور اخلاقی اقدار میں پابندی نہیں۔ ہمارے ہاں اقدار کی پابندی ہے اور ان اقدار، تصورات اور نظریہ کی پابندی دین اور ایمان کا

درجہ رکھتی ہے۔ اس بات کو اس مثال سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ کیا ہم آزادی کو بنیاد بناکر A کو B اور C کو F اور L کو M اور W کو Z کہہ سکتے ہیں؟ اگر کہیں کہ ہم آزادی کے قائل ہیں لہذا ہماری مرضی، ہم M کو Z پڑھیں گے تو کیا وہ ہمیں یہ کرنے دیں گے؟ وہ ہمیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ ان کے پاس اس کی کوئی عقلی دلیل بھی نہیں ہے مگر اس کے باوجود وہ ہمیں یہاں ہماری مرضی کے مطابق تبدیلی نہیں کرنے دیں گے۔ ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور دیگر کئی علوم کے بنیادی اصول و قوانین اور فارمولے ہیں، جن کو اگر ہم آزادی کو بنیاد بناتے ہوئے تبدیل کرنا چاہیں تو ان فارمولوں کو بنانے والے ایسا ہرگز نہیں کرنے دیں گے۔ حالانکہ ان کو تبدیل نہ کرنے کی کوئی عقلی دلیل بھی ان کے پاس نہیں ہے۔ وہ صرف یہ کہیں گے کہ جنہوں نے یہ زبان یا فارمولے بنائے ہیں، انہوں نے اسی طرح کہا ہے کہ اس کو صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کہنا ہے، اس کو B کہنا ہے اس کو Z کہنا ہے۔ پس زبان بنانے والوںکا کہنا یوں ہے لہذا ہم بدل نہیں سکتے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جس نے زبان بنائی ہے اس کی بات کو بدل نہیں سکتے مگر افسوس کہ جس نے انسان بنایا ہے اس کی بات اور نظام کو بدل دیتے ہیں۔ زبان بنانے والے کے قوانین کا اتنا احترام اور انسان بنانے والے کا کوئی احترام نہیں۔ جب اقدار کی بات آئے تو کہا جائے کہ ہمیں آزادی چاہئے اور پھر اس مادر پدر آزادی کے نام پر حیائ، شرم، طہارت، تقويٰ کا جنازہ نکال دیا جائے۔ پس جس طرح بغیر سوچے سمجھے زبان اور فارمولے بنانے والے کی بات نہیں بدل سکتے۔ اسی طرح انسان بنانے والے کی بات کو بھی نہیں بدلا جاسکتا۔ اس نے جس کو حلال قرار دیا ہے وہی حلال ہے اور جس کو حرام قرار دیا ہے وہی حرام ہے۔ اس نے جس کام کے کرنے کا حکم دیا ہے اسے ہی کرنا ہے اور جس کام سے منع کیا ہے، اس سے رکنا ہے۔ الحیاء شعبۃ من الایمان کے ذریعے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن اقدار کی طرف

اشارہ فرمایا ہے ہمیں ان میں کمزور نہیں پڑنا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ اقدار بھی ایمان کے درجے میں ہیں۔ کچھ لوگ اس میں کمزور ہوجاتے ہیں نتیجتاً بے غیرتی اور بے حمیتی شروع کردیتے ہیں، جس سے ایمان میں کمزوری آجاتی ہے۔ اس لئے کہ غیرت، شرم و حیاء اور جملہ قدریں داخلِ ایمان ہیں۔ پس تین قسموں کی چیزوں کو حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل ایمان و عقیدہ قرار دے دیا۔ انہی سے کل زندگی عبارت ہے۔ عقیدہ بھی ایمان ہے۔ اس سے اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق قائم ہوگیا۔ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا۔ اس سے انسانوں کے ساتھ تعلق ہوگیا۔ گویا یہ حقوق العباد ہیں اور داخل ایمان ہیں۔ حیاء، انسانی قدریں، سوچ، جن پر انسانی زندگی استوار ہوتی ہے یہ بھی ایمان ہے۔ اگر ایمان کے اس تصور کو کاملاً اپنالیا جائے تو پورا انسان خوبصورت بن جاتا ہے، انسانی سوسائٹی حسین ہوجاتی ہے اور مومن، مومنِ کامل بن جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعاليٰ ہمیں ایمان کے اس معنی کی معرفت عطا فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیوں کو ایمان کے نور سے منور کرنے اور سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

About admin

Check Also

Dream Planning Considerations for a Boutique Hotel

Intending to assemble or make a Boutique lodging? Congrats for taking the correct choice, ideally …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *