Home / Islamic Stories / اللہ پاک رزق کو تنگ کیوں کرتے ہیں

اللہ پاک رزق کو تنگ کیوں کرتے ہیں

حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ گناہوں کی تین تاثیر پکی ہے کہ اللہ پاک رزق کو تنگ کرتے ہیں! آپ نے اکثر دیکھا ہو گا بڑے بڑے مالدار لوگ بھی فیکٹریوں کے مالک بھی اگر گناہوں کی لائن پر لگ جائیں اگر اللہ کو ناراض کرنے میں لگ جائیں ان پر بھی اللہ پاک رزق کی تنگی کر دیتے ہیں کیا؟

ا دو کنٹینر ادھر پہنچ سکے اس کی پیمنٹ گئی، ورکرز بہت زیادہ اعتجاج کر رہے ہیں تنخواہ نہیں مل رہی ورکرز میڈیا پر آکر کے بیانات دے رہی ہیں کہ ہمیں کافی عرصے سے ہماری تبخواہ نہیں مل رہئ، ادھر سے مال تیار نہیں ہوا کش سینڈ ہوتا نہیں پریشان بیٹھے ہوتے ہیں کہ اب کام کیسے چلےگا ۔۔۔۔۔ کہنے کو کروڑ پتی مگر پریشان! کے بنے گا کیا تو اللہ پاک دے کر کے بھی بندے کو ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کبھی کبھی تاثیر و رزق، رزق کے حصول میں مشکل کردیتے ہیں

ایک شخص عشاء کی نماز کے بعد جب سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نماز ادا کرکے اپنی تسبیح کر رہے تھے آپ کے پاس آیا اور آ کے کہنے لگا اے علی رضی اللہ تعالی عنہ میں بہت مالدار تھا پھر اچانک گھر سے جانے لگ پڑا ہے چلتا پھرتا کاروبار بند ہونے کے قریب آ گیا ہے اب میں کیا کروں تو جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہوں اگر سونے نے بھی ہاتھ ڈالتا ہوں تو مٹی بن جاتا ہے وہ کام بالکل ختم ہو جاتا ہے تو یہ شخص اپنے شکوے سنا رہا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اس کی کمزوری سمجھ گئے اور فرمایا اے شخص تو اپنے گناہوں کو ترک کردے، تُوں گناہوں کو ترک کرنا شروع کر دے گا تو تو تیرے گھر میں رزق آنا شروع ہوجائے گا تیرے اٹکے ہوئے کام ہونا شروع ہوجائیں گے وہ شخص کہنے لگا آپ مجھے اشارہ دیجیۓ میں کیسے گناہوں کو چھوڑ دوں!

تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگیں تو اپنی زندگی میں جو روزانہ کرتا ہے اور جان بوجھ کر کے کرتا ہے اگر نماز تو نہیں پڑھتا اور جان بوجھ کر کے جب اذان ہوتی ہے مسجد کی جانب نہیں جاتا تو نماز پڑھنا شروع کردیں اگر شراب پیتا ہے شراب کو منہ لگاتا ہے تو شراب چھوڑ دے جو برائی تو جان بوجھ کر کے کرتا ہے وہ برائی تو چھوڑ دے وہ گناہ تو چھوڑ دے اگر کوئی جانے انجانے میں تجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو رات کو سونے سے قبل اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اللہ جوگناہ مجھ سے جانے انجانے میں ہوئے تو تجھے پتہ ہے تو دلوں کے راز جانتا ہے یا اللہ میرے گناہوں کو معاف فرم دے!

انشاءاللہ یہ کام کرے گا تو تیرے اٹکے ہوئے کام بھی ہونا شروع ہو جائیں گے اکثر لوگ کہتے ہیں ٹیل ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے یہ جو ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے نہ کہ کسی کی وجہ سے ہے مگر جب عاملین کے پاس جاؤ تو وہ تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ کسی نے کچھ کر دیا ہے اللہ پاک ایسے عاملین سے بچائیے!! یہ بہت بڑے لوگ ہوتے ہیں، یہ لوگ بہت حبیث لوگ ہوتے ہیں یہ لوگ اللہ سے اللہ سے دور کردیتے ہیں جب قرآن سے دور کر دیتے ھیں نماز سے دور کردیتے ہیں جب یہ آپ کو سیدھے سیدھے طریقے سے بتائیں گے کہ آپ نماز کے قریب جائے اللہ کے قریب جائے تو پھر تو ان کے کاروبار بند ہو جائیں گے ان بچاروں کا تو پتہ ہی ہوتا ہے کہ ہم اس لائن پر لگا دیں گے ان کے ذہن میں سٹوری تو پہلے سے ہی ہو گی میری پھوپو نے کچھ کر دیا، میری نند نے کچھ کر دی، چچا نے کچھ کر دیاا۔۔۔۔۔! الٹا ایمان خراب ہو جاتا ہے

قطعی رحمی کے مرتکب ہوجاتے ہیں لوگ رشتہ داروں کو دشمن سمجھنے لگ پڑتے ہیں تو کسی نے کچھ نہیں کیا ہمارے اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے ہمارے رزق تنگ کر دیتے ہیں لگتا ہے کہ کسی نے کاروبار باندھ دیا ہے کسی کو چھوٹاخدا کیوں مانتے ہیں کاروبار اللہ نے چلانا ہے اور کاروبار اللہ نے روکنا ہے اللہ دینا چاہیں تو ساری مخلوق اکٹھی ہو جائے روک نہیں سکتی اللہ نہ دینا چاہیے ساری مخلوق اکٹھی ہو جائے کچھ دے نہیں سکتی تو اللہ کو اللہ سمجھے یہ کیاہوا وہ فلاں نے کردیا۔ کاروبار باند دیا فلاں نے رشتہ باند دیا، کوئی کچھ نہیں باند سکتا!! ہاں ہم نے اپنے گناہوں کے سبب ان چیزوں کو باندھا ہوتا ہے اور ادھر توجہ ہی نہیں جاتی ہم سچی توبہ کر کے دیکھیں کے راستے کھلتے ہی نہیں کھلتے ان کا ٹیسٹ ہی یہ ہےان عاملین کے جھوٹے ہونے کی علامت یہ ہے کہ یہ بتا دیتے ہیں کہ کسی نے کچھ کردیا حل نہیں کرسکتے!!

کہتے ہیں یہ حل میں کر تو رہا ہوں لیکن بڑے زبردست کسی نے کیا ہوا ہے! تو بھائی جب آپ اس کا حل کریں نہیں سکتے تو آپ کی بات کیوں معنی ہاں ہم اس کا حل بتاتے ہیں حل یہ ہے کہ تنہائی کے اندر وضو کر کے دو رکعت نفل پڑھنے اپنے اللہ سے صلح کر لیں کہ میرے مولا آج تک جتنے گناہ کئے میں سب سے توبہ کرتا ہوں میں آج کے بعد نافرمانی نہیں کروں گا آپ اپنے اللہ سے صلح کریں گے اللہ آپ کے لئے بند دروازوں کو کھولنے لگے

About admin

Check Also

When is the End of Times Coming? – End of the World?

This is a great question and if one is to believe all that has been …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *