Home / Amazing and Interesting / امی آواز آ رہی ہے؟؟ ہیلو ہیلو امی؟؟

امی آواز آ رہی ہے؟؟ ہیلو ہیلو امی؟؟

اس نے ایک بار پھر ٹرائی کی اور گھنٹی جانے پر پھر بولا

مور جانے اے مورے

آگے سے دیہاتی بخمینہ نے کہا زور سے وایہ بچییا ( بولو میرے بچے )

مورے پہ تامو زیرہ دہ ( اماں آپکو خوشخبری دینی ہے )

سہ دی کور تہ رازے ( کیا ہے گھر آرہے ہو )

نہ مورے نہیں امی جان آپکو بتانا تھا کہ میں حافظ ہوگیا ہوں میری دستار بندی ہے

بخمینہ کو تو جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی مارے خوشی کے چیخ نکلی اور پھر آنسو نکل آئے کہ کتنی راتیں

جاگ کر مسافری میں اسکے لخت جگر نے اللہ کے قرآن کو یاد کیا ہے

وہ روندھی آواز میں بولی

وائے بچیا ہائے میرے بچڑے ماں صدقے جائے تو اس رمضان میں تراویح سنائے گا نا

عبداللہ جان نے فخر سے بتایا آو کنہ مورے ہاں نا ماں اس دفعہ مصلے پر تیرا بیٹا سنائے گا

یہ سنتے ہی بخمینہ نے فون کاٹ دیا کیونکہ عبداللہ جان کے ابو کی بہت خواہش تھی کہ اسکا بیٹا کبھی تراویح میں

قرآن سنائے لیکن وہ یہ منظر نہ دیکھ سکا وہ بھی عالمی جمہوریت کے چیمپین امریکی ڈرون میں ایک دن کھیتوں میں کام کرتے شہید ہوگیا تھا

بخمینہ ایک مسلمان ماں تھی اس نے شوہر کی شہادت پر ہمت نہیں ہاری اور کمر کس لی کہ شوہر کی خواہش ضرور پوری کرے گی

اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس نے جلدی جلدی اپنا ٹرنک کھولا اس میں سے گلہ نکالا اسے توڑا اسی دن کے لئے تو پائی پائی جوڑی تھی پیسے نکالے اپنے بھائی کو بلوایا اور اپنے بیٹے کے لئے سفید کپڑے منگوائے کچھ مٹھائی منگوائی کچھ ہار منگوائے ہار بھائی کو دیا کہ دستار بندی میں عبداللہ جان کو پہنادے اور کپڑے دے بھیجے لیکن بخمینہ کو کیا معلوم کہ وہ کپڑے نہیں عبداللہ کا کفن بھجوارہی ہے

رات بھر وہ روتی رہی لیکن جب بیٹے کا تصور آتا تو مسکرا دیتی وہ بہت خوش تھی
وہ ساری احادیث اسکے ذہن میں آرہی تھیں جو اس نے اپنے شوہر سے سن رکھی تھیں

رات روتے ہنستے کٹی صبح لو پھوٹتے ہی خاوند کے قبر پر گئی ایک پھول اسکے سرہانے رکھا اور کہا میں افغان

عورت ہوں تیرے ساتھ وعدہ تھا کہ تجھے سرتاج بنا کر رکھوں گی لے پھر میرا بچہ تیرے لئے ایسا تاج لیکر آرہا

جسکی روشنی سورج سے زیادہ ہے ۔

اسکے بعد بخمینہ نے گھر کی صفائی ستھرائی شروع کردی وہ بھاگ بھاگ کر گھر سجارہی تھی کہ میرا بیٹا آئے گا اسکی دستار بندی ہے ۔

ایک دم فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی اسکے بھائی کی گھبرائی ہوئی آواز تھی وہ فون پر بس رو رہا تھا
ماں ماں ہوتی ہے خدشے آنے شروع ہورہے تھے وہ سختی سے جھٹلارہی تھی اور ساتھ ساتھ اللہ خیر کے اللہ خیر کے بھی کہہ رہی تھی
اڑوس پڑوس کی عورتیں جمع تھیں کہ عبداللہ جان کا استقبال کریں گے پھول کی پتیاں انکے ہاتھوں میں تھی

کہ عبداللہ کے ماموں نے کہا کہ عبداللہ نہیں رہا

سہ اوشو لالا ( بھائی کیا ہوا ) دھڑکتے دل سے بخمینہ نے پوچھا

عبداللہ جان شہید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بخمینہ کے پیروں کے نیچے سے زمین سرک گئی یوں لگا کہ سر سے کسی نے آسمان کھینچ لیا موبائل اسکے ہاتھ سے نیچے گرا اور وہ دیوار کیساتھ لگ کر بیٹھ گئی

عورتوں نے جلدی بڑھ کر ہلایا بخمینے سہ اوشو سہ خو اووایا

لیکن بخمینہ کی زبان گنگ آنکھوں سے آنسو رواں اور آخر آنسو پونچتے ہوئی بولی

عبداللہ کی دستار بندی ہوگئی ہے وہ کامیاب ہوگیا لیکن اسکی دستار بندی جنت میں ملا محمد عمر کریں گے اس لئے وہ جنت چلا گیا ہے ۔۔۔

اتنے میں عبداللہ کے ماموں بھی آگئے وہ ہسپتال سے آرہے تھے آتے ہی بہن سے لپٹ گئے کیا کہتے بہن نے کہا مجھے عبداللہ کی دستار بندی دیکھنی ہے

بھائی اسے لیکر اس مقام پر چلا گیا جہاں سے عبداللہ نے جنت کا سفر شروع کیا تھا

ماں تو ماں ہوتی ہے عبداللہ کا سفید لباس سرخ تھا

وہ عبداللہ کے سرہانے کھڑی ہوئی اور بیٹے کو مخاطب کرکے بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ اس سے آگے اس وقت لکھنے کی ہمت نہیں

About admin

Check Also

میرا مذاق اڑاتے ہو یا پھر میرے؟

172 آپ لوگ میرا مذاق اڑاتے ہو یا پھر میرے بنانے والے کا؟ ہر شخص …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *