Home / Stories / غصہ رب کا

غصہ رب کا

ایک نوجوان کی ماں سخت بیمار اور ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں داخل تھی۔ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا تھاکہ برخوردار زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر ہم اب مایوس ہو چکے ہیں‘ تم کسی بھی لمحہ کوئی بری خبر سننے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا‘ رات گھر گزارنے کے صبح ماں سے ملاقات کیلئے ہسپتال جاتے ہوئے نوجوان راستے میں ایک پیٹرول پمپ پر رکا‘ پٹرول بھروانے کیلئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے اس کی نظر سروس شاپ کی دیوار کے پاس پڑیجہاں ایک بلی نے خالی ڈبے کےنیچے بچے دے رکھے تھے۔

یہ نوزائیدہ بچے بہت ہی چھوٹے تھے جو ابھی چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔ نوجوان کے ذہن میں جو پہلی بات آئی وہ یہ تھی کہ اتنے نازک اور چھوٹے سے بچے کھانا کہاں سے اور کیسے کھائیں گے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنی کار ایک طرف ہٹا کر بند کی‘ پاس ہی کھڑی ایک ریڑھی سے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں خریدیں اوراسے بلی کے بچوں کے پاس رکھا۔ بچوں نے کھانا شروع کیا تو وہ خوش ہو کر اپنی کار کی طرف گیا اور پٹرول بھروا کر ہسپتال جا پہنچا۔جیسے ہی اس نے اپنی ماں کے کمرے میں جھانکا تو بسترخالی پا کراس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ ڈوبتے دل کے ساتھ ایک نرس سے پوچھا‘ میری امی کہاں ہے؟ نرس نے کہا‘ آج آپ کی امی کی طبیعت معجزاتی طور پر سنبھلی تھی۔ اسے جیسے ہی ہوش آیا تو ڈاکٹر نے کہا تھا اسے تازہ ہوا لینے کیلئے باہر لے جاو تو ہم نے اسے کوریڈور سے باہر لان میں بٹھا دیا ہے‘ آپ اسے جا کر مل سکتے ہیں۔ نوجوان بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس پہنچا‘ اسے سلام کیا‘ حال احوال پوچھا تو اس کی ماں نے کہا‘ بیٹے آج صبح میں نے خواب دیکھا کہ ایک بلی اور اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے میرے لئے دعا کر رہے ہیں۔

بس یہ خواب دیکھتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور باقی کی صورتحال تم خود دیکھ رہے ہواور نوجوان حیرت بھری خوشی کے ساتھ اپنی ماں کی باتیں سنتا رہااور اپنے دل کو ٹھنڈا کرتا رہا۔ جی ہاں‘ اس رب کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ سب کچھ اپنے اندر سمو لیتی ہے‘ ایسے تو ہمیں نہیں سکھایا گیا کہ اپنے مریضوں کاصدقہ سے علاج کرو یا صدقہ ہی تو ہے جو تمہارے رب کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

About admin

Check Also

ساس سے چھٹکارا

یک لڑکی جس کا نام تبسم تھا اس کی شادی ہوئی وہ سسرال میں اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *