Home / Stories / بیٹی کی شادی

بیٹی کی شادی

آج شیخ صاحب کی بیٹی کی شادی تھی. اور وہ بہت دکھی لگ رہے تھے. میں نے ان کو اضطراب میں مبتلا دیکھا تو پوچھا جناب کیا مسئلہ ہے. اتنی خوشی کے موقع پر آپ کیوں اس قدر پریشان دکھائی دیتے ہیں؟؟؟ . بولے…لڑکے والوں نے عین موقع پر کار کی مانگ کرلی. میں یہ بات سن کر ششدرہ رہ گیا کہ یہ کیا ماجرہ ہے. لیکن دوسرے ہی لمحے شیخ صاحب نے مجھے اور حیرانگی میں ڈال دیا. . بولے. مسئلہ یہ نہیں کہ انہوں نے گاڑی مانگ لی ہے. مسئلہ یہ ہے کہ بیٹی اب وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی. میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ. بیٹی کو جب یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی… بابا جان آپ ایسے شخص سے میری شادی کروانا چاہتے ہیں جن کو مجھ سے نہیں میرے ساتھ آنے والی دولت سے محبت ہے.

جو مجھے اپنے گھر لیجا کر ایک کونے میں پڑے میز کی طرح استعمال کریں گے.. جب چائے رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو کھسکا کر سب کے سامنے کر دیا اور جب ضرورت پوری ہوئی تو واپس کونے میں رکھ دیا.. میری کیا زندگی ہوگی وہاں پر جہاں میری عزت میرے علم ہنر اور سلیقہ سے نہیں بلکہ میرے ساتھ آنے والی گاڑی، فریج، ایسی اور دوسری اشیاء سے ہوگی.. کیا آپ نے مجھے اتنا سستا پیدا کیا ہے.. کیا آپکی تربیت کوڑیوں کے بھاؤ بکنے کے قابل ہے.. کیا میری قدر ان بے جان اشیاء سے کم ہے. . لیکن اب اگر انکار ہوگیا تو لوگ کیا کہیں گے.. شیخ صاحب آبدیدہ آنکھیں لئے بولے.. . یہ سب کر میرا دل نکلنے کو آیا لیکن خود کو سنبھال کر ان سے مخاطب ہوا. . شیخ صاحب خوش قسمت ہیں آپ جو آپکو ایسی بیٹی ملی جسے اپنی قدر و منزلت کا اندازہ ہے. آپکو فخر ہونا چاہیئے کہ بیٹی نے آپکو ساری زندگی کی اذیت سے چھٹکارا دلا دیا.. کہاں آپ انکی روز ڈیمانڈ پوری کرتے اور کہاں خون کے آنسو روتے. میں تو کہتا ہوں بیٹی نے آپکا سر فخر سے بلند کردیا. شیخ صاحب اگر انکی ڈیمانڈ پوری کردی تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ آپکی بیٹی کو خوش رکھیں گے؟؟؟ بیٹی کا گھر ٹوٹ جانا اس سے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ اس کی شادی ٹوٹ جائے.. جو عین شادی کے وقت ایسی ذلیل حرکت کر رہے وہ آگے جا کر کیا کریں گے. . لوگوں کی پرواہ نہ کریں ان کا کام ہے کہنا.. اور دو دن میں خود بھول جائیں گے لیکن بیٹی کی تباہی ساری زندگی کا گلے کا طوق بن جائے گی.. سوچ لیجئیے یہ فیصلے روز نہیں ہوتے.. . شیخ صاحب نے جیب سے فون نکالا اور اپنے ہونے والے رشتے داروں کو ملایا. . اسلام علیکم .. جناب مجھے آپکی تمام شرائط منظور ہیں. .

میں حیرانگی سے انکی طرف تکنے لگا. کہ یہ کیا کہہ رہیں ہیں.. سمجھانے کے باوجود بھی. . اور اگلی بات نے مجھے آکیسجن فراہم کی. اور دم یکدم واپس آیا. . شیخ صاحب بولے کہ بارات لانے کی ضرورت نہیں بس دو عدد ٹرک سامنے لادنے کیلئے اور ایک عدد ڈرائیور کار لیجانے کیلئے بھیج دیں. کیونکہ میری بیٹی بکاؤ نہیں لیکن آپ کے بیٹے کی مطلوبہ قیمت میں ادا کر رہا ہوں….. شکریہ. . اب شیخ صاحب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے. . امیر ہونے کیلئے کوئی اور پیشہ اپنائیں… انسان کی قیمت لگانا اسلام میں حرام ہے اور اولاد کی قیمت لگانا ماں باپ کے عظیم رشتے کی توہین ..

About admin

Check Also

نفس کا فریب

مثنوی مولانا روم میں شہرِ بغداد کی ایک حکایت مذکور ہے۔ حکایت کا آغاز اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *