Home / Stories / عورت کی نفسیات کیوں تبدیل ہوتی ہے؟

عورت کی نفسیات کیوں تبدیل ہوتی ہے؟

عورت کو حمل قرار پاتے ہی اس کی نفسیات میں نہایت اہم اور عجیب قسم کی تبدیلیاں دیکھنے میں آتی ہیں ، لوگ بس قے کو ہی انجوائے کرتے ہیں جبکہ اس کے کھانے پینے اور سونے جاگنے کے معاملات گڑبڑ ہو جاتے ہیں ، اس کی پسندیدہ ڈشیں اب ناپسندیدہ ہو جاتی ہیں ، ان کی خوشبو سے ہی اسے الٹیاں شروع ہو جاتی ہیں گویا عورت کو سگنل دے دیا گیا کہ اب اس کی قربانیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، اسے اس نئی زندگی کے لئے اپنا وہ سب کچھ قربان کرنا پڑے گا جو کل تک اس کے لئے بڑا اہم تھا ،،

اسی کے ساتھ اس کے رویئے میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے ، اور وہ ڈیپریشن کی مریضہ بن جاتی ہے ، ہر ایک کے گلے پڑتی ہے ، چھوٹی بات اس کو بڑی اور ناقابلِ برداشت لگتی ہے ،اکثر اس کا موڈ آف رہتا ہے ،، یہ تبدیلیاں ہر ماں میں ہوتی ہیں یہاں تک کہ مرغی بھی اس کیفیت میں بے مروت شیر بن جاتی ہے جو اپنے ڈربے کے پاس پھٹکنے والی ہر چیز پر حملہ آور ہوتی ہے ، اس کا موڈ بھی آف ہو جاتا ہے اور کئی کئی دن کھانے کو جی نہیں چاہتا ،، جس کے باہر زندگی نشوونما پا رہی ہے اگر اس کا حال یہ ہے تو جس کے اندر زندگی جنم لے رہی ہے اس کی کیفیات کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ جو اس کیفیت سے گزر چکا ہو مثلا ساس ،

اس عرصے میں عورت کو تعاون کی شدید ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے رویئے کی تبدیلی کو اس کا عیب نہ سمجھا جائے بلکہ بیماری سمجھ کر اس کو برداشت کیا جائے اور اس کی دلجوئی کا پورا اہتمام کیا جائے خاص طور پر ساس کا کام ہے کہ وہ بیٹے کو سمجھائے کہ بیٹا یہ نارمل روٹین ہے بچے والی عورت کے ساتھ یہ سب ہوتا ہے اور جب تم پیٹ میں تھے تو میرا بھی یہی حال تھا ، دو چار ماہ کی بات ہے بچہ جوں جوں میچور ہوتا ہے حالت سنبھلتی جاتی ہے ،،

مگر ساس ہی بعض دفعہ بیٹے کو بھڑکانے کا سبب بن جاتی ہے ، ہم نے بھی بچے پیدا کیئے ہیں ، یہ کوئی نرالا بچہ پیدا نہیں کرنے لگی ، نخرے کر رہی ہے ،ہم تو کھیتوں میں بھی کام کرتی تھیں ،یہ گھر کا کام بھی نہیں کر سکتی ،، وغیرہ وغیرہ یوں عورت کی دلجوئی کے بجائے اس کو انہی دنوں میں طلاق بھی دے دی جاتی ہے کہ ہم ایسی عورت کو نہیں رکھ سکتے ،،

اور پھر بڑے معصوم ہو کر مسئلہ پوچھتے ہیں کہ ” قاری صاحب بیوی کو طلاق دے دی ہے جبکہ وہ حاملہ ہے تو کیا اس صورت میں طلاق ہو جاتی ہے؟

بیٹا تم گولی مار کر ڈاکٹر سے پوچھتے ہو کہ ڈاکٹر صاحب میں نے بیوی کو گولی مار دی ہے جبکہ وہ حاملہ تھی تو کیا اس صورت میں گولی لگ گئی ہے ؟

About admin

Check Also

نفس کا فریب

مثنوی مولانا روم میں شہرِ بغداد کی ایک حکایت مذکور ہے۔ حکایت کا آغاز اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *