Home / Islamic Stories / عورت نے کہا کہ میرامٹی کا تیل زمین سے واپس لے کر دو

عورت نے کہا کہ میرامٹی کا تیل زمین سے واپس لے کر دو

خلیفۂ دوئم سیدنا عمرؓ کا عہد خلافت عدل وانصاف کا حسین دورتھا کسی کے ساتھ ناانصافی کا تصور بھی نہیں تھا،ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت حضرت سیدنا عمرؓ کے پاس آئی اور کہاکہ اے امیر المومنین میں مٹی کا تیل لے کر آ رہی تھی کہ زمین پر گر گیا

اور زمین نے اسے جذب کر لیا، اس عورت نے کہا کہ میرامٹی کا تیل زمین سے واپس لے کر دو،حضرت عمرؓ اس جگہ گئے جہاں زمین نے مٹی کا تیل جذب کیا تھا ،زمین پر دھرامارکر فرمایااے زمین! اس عورت کا تیل واپس کرو ،عمرؓ نے کونسا تیرے اوپر ظلم کیا ہے ؟ تاریخ شاہد ہے کہ وہاں سے مٹی کے تیل کا چشمہ جاری ہوگیا۔

٭ختم نبوت کے مسلہ پر قائم ہونے والے مسلیمہ کذاب کے خلاف اسلام کے عظیم الشان معرکے میں حضرت عمر فاروقؓ کے بھائی حضرت زید بن خطاب ؓ بھی شہید ہوئے تھے جب لشکر اسلام واپس ہوکر مدینہ پہنچا تو حضرت عمرؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے جو اس لڑائی میں شریک تھے فرمایا : کیا بات ہے

تمہارے چچا تو اس لڑائی میں شریک ہوں اور تم زندہ رہو،تم زید ؓ سے پہلے کیوں نہ مارے گئے ؟کیا تمہیں شوق شہادت نہ تھا؟ جناب عبداﷲ ؓ نے عرض کیا ،چچا جان اور میں نے حق تعالیٰ سے شہادت کی دعا اکٹھے مانگی تھی،ان کی دعا قبول ہوئی اور میں اس شہادت سے

محروم رہا ،حالانکہ میں نے دعا میں کمی نہ کی تھی۔٭قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک عیسائی کو قتل کردیا ،حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ قاتل کو مقتول کے ورثہ کے سپرد کردو ۔چنانچہ وہ قاتل جو مسلمان تھا،مقتول کے وارث حنین کے سپرد کردیا گیا،اس نے اسے اپنے عزیز کے بدلے قتل کردیا۔٭

ایک معاملے میں حضرت عمر ؓ ایک فریق تھے ،ان کا ایک لڑکا عاصم مطلقہ بیوی سے تھا ،لیکن انہوں نے کافی عرصہ تک اس بچے کی خبر نہ لی تھی اور وہ اپنی والدہ ہی کے پاس تھا ۔ایک دن حضرت عمرؓ کوموضع جتا جانے کا اتفاق ہوا ،جہاں انہوں نے مسجد کے قریب ہی بچے کو دیکھ لیا محبت پدری سے مجبور ہوکر انہوں نے لڑکے کو اٹھا لیا

اور اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہا ،اسی اثناء میں لڑکے کی نانی جس نے اس بچے کی پرورش کی تھی آگئی اور جھگڑا کرنے لگی ،دونوں فریق حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں پہنچے اور دونوں نے بچے کی تولیت کا دعویٰ کیا۔خلیفہ نے فریقین کی بات سن کر نابالغ بچے کی بہبود کی خاطر فیصلہ حضرت عمرؓ کے خلاف دے کر بچے کو نانی کو سپرد کردیا۔٭

خلیفۂ ثانی سیدنا عمر ابن خطا ب ؓ کے عہد خلافت میں ایک شخص نے سیدنا عمر ابن خطاب ؓ سے شکایت کی کہ اے امیر المومنین گورنر مصر حضرت عمروبن العاصؓ کے بیٹے محمد بن عمرؓ ونے میری پشت پر آٹھ کوڑے مارے ہیں اور کہتا ہے کہ میں گورنر کا بیٹا ہوں خلیفہ ٔ دوئم نے حکم فرمایا کہ محمد بن عمرو کو گرفتار کرکے لایا جائے اور عمروبن العاصؓ کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ۔

جب محمدبن عمرو ؓ کو گرفتار کرکے لایا گیا تو حضرت عمرؓ نے اس آدمی سے کہا کہ گورنر کے بیٹے محمد بن عمرؓ وکی پشت پر آٹھ کوڑے مارو۔اس متاثرہ شخص نے گورنرکے بیٹے کی پشت پرکوڑے مارے تو حضرت عمرؓ بن خطاب نے اس آدمی سے کہا کہ اب عمروبن العاصؓ کی پشت پر بھی ایک کوڑا مارو تاکہ اسے پتا چلے

کہ اس کا بیٹا کیا کرتا ہے ؟اس پر اس آدمی نے کہا کہ اے امیرالمومنین !عمروبن العاصؓ نے تو مجھے کوئی کوڑا نہیں مارا لہٰذا میں انھیں معاف کرتا ہوں ۔اس کے بعد خلیفہ ٔ دوئم عوام کے جم غفیر کے سامنے گورنر مصرحضرت عمروبن العاص ؓ سےمخاطب ہوئے اور فرمایا اے عمروبن العاصؓ تمھیں کیا ہوگیا ؟لوگوں کو تم نے کب سے اپنا غلام بنانا شروع کردیا ہے

حالانکہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا۔( ایک جرمنی کی پارسی لڑکی اس واقعہ کی وجہ سے حضرت عمر ؓ بن خطاب سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے سیرت سیدنا عمرؓ پر 7000 انگریزی کی کتب جمع کیں اور ایک انٹرنیشنل لائبریری بنائی

اور اس نے ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا جس میں 1000 دنیا کے بڑے دانشوروں نے شرکت کی اس نے مقالہ پیش کیا جسمیں یہ اعتراف کیا گیا کہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار سیدنا عمر بن خطابؓ ہے کیونکہ حضرت عمرؓ نے انسانوں کو تمام بنیادی حقوق دئیے اورآپ ؓ کے ان الفاظ ” اے عمروبن العاصؓ تمھیں کیا

About admin

Check Also

آج رات اگر تو نہ بولی تو تجھے طلاق ہے میری طرف سے

219 امام ابو حنیفہؒ کے برجستہ جواب، ذہانت اور طباعی عموماً ضرب المثل ہے۔ مشکل …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *