Home / Stories / سپیشل ایڈوائزر

سپیشل ایڈوائزر

سپیشل ایڈوائزر ڈربے میں پچیس مرغیاں تھیں‘ یہ مرغیاں روزانہ دس کلو دانا کھا جاتی تھیں لیکن انڈہ کوئی نہیں دیتی تھیں‘ ڈربے کا مالک مرغیوں کے بانجھ پن سے تنگ آگیا چنانچہ اس نے تمام مرغیاں ذبح کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ وہ دھوپ میں بیٹھ کر چھری تیز کر رہا تھا‘ مولوی صاحب گزرے‘ انہوں نے مالک سے پوچھا ”خیریت ہے آپ کیا کرنا چاہتے ہیں“ مالک نے بتایا ”مرغیاں انڈے نہیں دیتیں چنانچہ میں انہیں ذبح کرنے لگا ہوں“ مولوی صاحب نے پوچھا ”آپ کے پاس مرغے کتنے ہیں“ مالک نے جواب دیا ”مرغا تو کوئی نہیں“ مولوی

صاحب نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ”بے وقوف انسان آپ ایک مرغے کا بندوبست کر لو یہ مرغیاں انڈے دینے لگیں گی“ مالک نے ہاں میں سر ہلایا‘ مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور چھری سائیڈ پر رکھ دی‘ مولوی صاحب چند دن کے بعد دوبارہ وہاں سے گزرے‘ مرغی خانے کا مالک خوش تھا‘ مولوی صاحب نے پوچھا ”تمہاری مرغیاں اب کتنے انڈے دیتی ہیں“ مالک نے جواب دیا ”جناب بیس بائیس انڈے ہو جاتے ہیں“ مولوی صاحب نے قہقہہ لگایا اور ڈربے کی طرف دیکھا‘ ڈربے میں 25 مرغیوں کے درمیان پانچ مرغے دندناتے پھر رہے تھے‘ مولوی صاحب مالک کی طرف مڑے اور حیرت سے کہا ”بھائی میں نے آپ سے کہا تھا آپ صرف ایک مرغا رکھ لیں‘ آپ نے ڈربے میں پانچ مرغے ڈال دیئے‘ کیوں؟“ مالک ہنسا اور آہستہ سے جواب دیا ”مولوی صاحب ان میں مرغا صرف ایک ہی ہے باقی چار سپیشل ایڈوائزر ہیں“۔ پانامہ لیکس پاگل بھاگ کر دیوار پر چڑھ گیا‘ پاگل خانے کا عملہ پاگل کو نیچے اتارنے کی کوشش کرنے لگا‘ پاگل کو مختلف ترغیبات دی گئیں‘ اسے پاگل خانے کا صدر بنانے کی پیش کش کی گئی‘ اسے واپس گھر بھجوانے کی ترغیب دی گئی‘ اسے اچھے کھانے کا دانا ڈالا گیا اور اسے ”کچھ نہیں کہا جائے گا“ کی گارنٹی بھی دے دی گئی لیکن پاگل دیوار سے اترنے کےلئے تیار نہیں ہوا‘ انتظامیہ تھک گئی اور اس نے دیوار میں کرنٹ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا لیکن عین وقت پر ایک دوسرا پاگل آگے بڑھا‘ ڈاکٹر سے اجازت لی اور دیوار پر بیٹھے پاگل کو چھوٹی سی قینچی دکھا کر اونچی آواز میں بولا ”اوئے نیچے اتر جا نہیں تو میں اس قینچی سے دیوار کاٹ دوں گا“ دیوار پر بیٹھا پاگل فوراً نیچے کود گیا‘ پاگل خانے کے عملے نے اسے دبوچ لیا‘ ڈاکٹر اس عجیب و غریب تکنیک پر حیران ہو ا‘ وہ دیوار سے کودنے والے پاگل کے پاس گیا اور اس سے کہا ”ہم سارا دن تمہاری منتیں کرتے رہے لیکن تم نیچے نہیں آئے اور اس پاگل نے تمہیں دو انچ کی قینچی دکھائی اور تم نیچے آ گئے‘ کیوں؟“ پاگل نے سنجیدگی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا ”جناب میں جانتا ہوں یہ پاگل ہے‘ یہ اگر پاگل پن میں واقعی دیوار کاٹ دیتا تو میں تو اوپر ہی لٹکا رہا جاتا“۔ سزا جانوروں نے فیصلہ کیا‘ ہم میں سے جو جانور جنگل کا قانون توڑے گا ہم اسے آج سے انسان کہیں گے‘بندر نے احتجاجاً ہاتھ کھڑا کر دیا‘ شیر نے غصے سے پوچھا ”کیوں کیا تکلیف ہے“ بندر بولا ”جناب جرم چھوٹا ہے لیکن سزا زیادہ ہے“۔ قربانی بکرے نے اپنی ماں سے پوچھا ”مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی“ ماں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ بکرا بولا ”انسان اپنی ہر غلطی کے تاوان میں ہمیں کیوں ذبح کر دیتے ہیں“ ماں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”کیونکہ یہ اپنی غلطیاں ترک نہیں کرنا چاہتے“ بکرے نے ہاں میں گردن ہلائی اور بولا ”انسان اگر غلطیاں کرنے کی خو بدل لے تو اسے عمر بھر کسی جانور کے گلے پر چھری نہ پھیرنی پڑے“۔

About admin

Check Also

ساس سے چھٹکارا

یک لڑکی جس کا نام تبسم تھا اس کی شادی ہوئی وہ سسرال میں اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *