Home / Stories / وہ کیسی عورتیں تھیں (مزہ نہ آئے تو پیسے واپیس) ضرور پڑھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں (مزہ نہ آئے تو پیسے واپیس) ضرور پڑھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

ایک زمانہ تھا کہ عورت ان پڑھ تھی، بچوں کی کثیر تعداد ساس، سسر کے ساتھ، ساتھ نندوں اور دیوروں کی کفالت اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا.
اوپر سے ایک عجیب الفطرت مرد بطور مجازی خدا اسے برداشت کرنا پڑتا تھا، مگر اس سب کے باوجود وہ محفوظ تھی، پرسکون تھی اور ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ ایک رہنما اور سرپنچ کے عہدے تک پہنچ جاتی تھی بچوں پر حکم، فیصلے سنانے کے علاوہ سارا دن گھر داری میں گزارنے والی کو محلے کی عورتوں کے علاوہ کسی سے تعلق نہ ہوتا تھا.

پھر زمانہ جدید ہوا عورت کا اپنے مقام کا احساس ہوا اور وہ آزاد ہونے لگی…
سسرال تو بہت بعید اسے خاوند کی خدمت بھی ایک بوجھ لگنے لگی، اور پرائیویسی کے نام پر علیحدہ گھر کے مطالبات ہونے لگے،
پھر زمانے نے مزید ترقی کر لی اور اس سے بھی چند قدم آگے جا کر اب عورت مکمل آزاد ہے تعلیم یافتہ ہے اور اپنی زندگی جی رہی ہے، خیر عورت کو ترقی کرنی چاہیے ضرور کرنی چاہیے میں اس کے بلکل خلاف نہیں،

مگر……. !!
عورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جا رہی ہے اس کے رشتے کا مقابل مرد تلاش کرنا اتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ مردوں کی اکثریت حد ماسٹر ڈگری وہ بھی فارمل ایجوکیشن کے ساتھ کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتی ہے، اب اس کا اگلا قدم یہ ہو گا کہ عورت ہی ملازمت کر کے گھر کی کفیل ہوا کرے گی، جبکہ مرد مکمل فارغ یا پھر کسی چھوٹی موٹی ملازمت سے بس زندگی کو دھکا دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوا نظر آئے گا…
یہ تو بھلا ہو میڈیا کا جس نے ابھی سے مستقبل کی تیاری شروع کرا دی، ایک اشتہار میں ایک عورت اپنے دفتر سے ویڈیو کال میں گھر بیٹھے بچے کو آ آ آ آں ں ں ں کی آواز نکال کر بچے کو منہ کھولنے کو کہتی ہے اور بچہ منہ کھولتا ہے تو اس بچے کا باپ اس کے منہ میں نوالہ ڈالتا ہے….
ایک اشتہار میں گھر بیٹھی ماں اپنی جوان بیٹی کا انتظار کر رہی ہوتی ہے جو رات کے دس بج کر دس منٹ پر گھر پہچتی ہے اور ماں کو چائے بنا کر دیتی ہے،
عورت کی اس طرح کی آزادی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بڑی خطرناک ہے 

بچے کے گرنے پر ماں کا میں صدقے کہہ کر لپکنا 

بچے کے ہر آہٹ پر بے چین ہو جانے  والی ماں 

بڑھتی عمر کے بچوں کے لئے فکر مند ماں 

وہ سب کی پسند نا پسند کا خیال کر کے ہانڈی پکانے والی ماں 

قصے کہانیاں اور لوری سنا کر سلانے والی ماں 

غلط کاموں پر ڈانٹنے اور چپلیں پھینک کر ڈرانے والی ماں 
اپنی_اولاد_کی_پرورش_میں_گم_صم_رہنے_والی_اور_اپنی_اولاد_میں_کیڑے_نکالنے
اور_نکتہ_چینیاں_کر_کے_دل_ہی_دل_میں_خوش_ہونے_والی_ماں،

اب اگلی نسل کو شاید نصیب ہی نہ ہو

کیونکہ سارا دن کی تھکی ہاری عورت رات کو کیا، کیا کرے گی؟؟
بچے سنبھالے گی، گھر سنبھالے گی، شوہر سنبھالے گی، یا رات کو آرام کرے گی، تاکہ صبح تازہ دم ہو کے ملازمت کی ذمہ داری سنبھال سکے….؟
میری تحریر کئی لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے مگر میں نے حقیقت لکھنے کی کوشش کی ہے، کچھ سمجھانے کی کوشش کی ہے، امید ہے کہیں بھی ضرب لگ گئی تو میری تحریر رائیگاں نہیں جائے گی۔

About admin

Check Also

ساس سے چھٹکارا

یک لڑکی جس کا نام تبسم تھا اس کی شادی ہوئی وہ سسرال میں اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *