Home / Stories / مفتی صاحب میرا باپ کہتا ہے اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔۔۔۔! میں بہت پریشان ہوں میری مدد کریں

مفتی صاحب میرا باپ کہتا ہے اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔۔۔۔! میں بہت پریشان ہوں میری مدد کریں

ایک با پ نے اپنے بیٹے سے کہاـــاپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ بیٹا حیران ہوا۔کیو نکہ میاں بیوی بچوں سمیت ہنسی خوشی کی زندگی گزار رہے تھے۔ بیوی میاں کی خدمت کرتی۔ہر حا لت میں صبرو شکر سے رہتی۔مگر والد بضد تھے ۔ بیوی کو طلاق دو ۔اور دلیل یہ دیتے ابر ہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو طلا ق دینے کا کہا

تو ان کے بیٹے نے طلاق دے د ی۔بیٹابڑا پر یشان ہو۔ا ایک طر ف با پ کا حکم دوسری طر ف بیوی بچوں کے مستقبل کا سوال ۔ اگر باپ کا حکم

مانتا ہے تو بیوی بچوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ اگر حکم کے خلاف کرتاہے تو اﷲ نارا ض ہوتا ہے۔نوجوان نے یہ سن رکھا تھا۔مفتی کے پا س ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے۔اس نے سو چا موقع اچھا ہے۔چلو اس بات کو آزماتے ہیں۔وہ خوف اور امید کے جذ بات لے کر ۔مفتی صا حب کے پاس پہنچا۔۔مفتی صا حب نے نو جوا ن کو گھبرایا ہوا دیکھ کر پوچھا کیا با ت ہے؟

آپ کچھ پر یشان نظر آرہے ہیں؟ نو جوا ن کو ان کے لہجے میں ہمدردی نظر آ ر ہی تھی۔ نو جوا ن نے سا را مسئلہ مفتی صا حب کو بیا ن کیا۔ سا را مسئلہ سن کر مفتی صا حب بو لے کچھ اور آپ کہنا چا ہیں گے۔ نو جوا ن بو لا ہاں ایک اہم بات یاد آئی میر ی بیوی میرے با پ کے لئے حقہ نہیں تیار کر تی۔اب آپ بتاآئیے میرے لئے کیا حکم ہے۔مفتی صا حب بولے اگر مسئلہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے بیا ن کیا ہے۔اگر آپ کے والد صا حب حضرت ابر ہیم ؑ کی طرح اور آپ حضرت اسماعیلؑ طر ح ہیں تو طلاق دے دیں ورنہ نہ دیں۔ نوجوان کو یہ بات دل پر لگی اور وہ بہت بڑا قدم اُٹھاتے اُٹھاتے بچ گیا۔ دوستوں یہ چھوٹی سی تحریر میں ایک ایسی حقیقت چھپی ہے کہ کچھ اور کہنے کی ضرور ت نہیں اگر مناسب سمجھے تو اپنے دوستوں کےساتھ بھی شیئر کر دیں ہو سکتا ہے آپ کے ایک شیئر سے کئی زندگیاں بچ جائیں

About admin

Check Also

نفس کا فریب

مثنوی مولانا روم میں شہرِ بغداد کی ایک حکایت مذکور ہے۔ حکایت کا آغاز اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *