Home / Health / اگر جان پیاری ہے تو یہ وڈیو اپنے گھر ضرور دیکھائیں

اگر جان پیاری ہے تو یہ وڈیو اپنے گھر ضرور دیکھائیں

دوستو کھانا پکانا انسانی زندگی کے معمولات میں شامل ہے بلکہ یوں کہنا بےجا نہ ہوگا کہ کھانے اور پکانے سے ہم سبھی کا تعلق تقریبا روزانہ کی بنیاد پر جوڑا ہے اسی طرح اگر ٹھیک خوراک کو ٹھیک طریقے سے ہی پکایا جائے تو وہ لذیذ اس صحت مند اور روح افزا ثابت ہو سکتی ہےلیکن اگر اسی کھانےکو تکنیکی طور پر غلط طریقے سے پکالیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ مضر صحت ثابت ہو اور ہم یہ ہمارے جسم میں وہ کھانا کی طرح کی بیماریوں کو جنم دے دی اسی طرح کھانا پکانے کے دوران جو مختلف مصالحہ جات ہم استعمال کرتے ہیں عام روز مرہ کی زندگی میں

اپنے گھروں میں تو آپ کو یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ ہر ایک مسالے کی کیمیکل پراپرٹیز مختلف ہوتی ہیں یعنی ایک مثال کا دوسرے مسئلے کے ساتھ بھی ممکن ہے تو اس بات کی جانکاری بھی بہت ضروری ہے کہ مجھے صحت مصالحہ استعمال تو نہیں کر رہے تو خواتین و حضرات آپ سے بھی سننے والوں کو چینل اردو ٹیچر کی جانب سے خوش آمدید آج کس ویڈیو میں بات کریں گے چاول کے پکانے کا صحیح طریقہ اور عام طور پر جو گھروں میں چاول جس طرح سے پکائیں جا رہے ہیں وہ مضر صحت ثابت ہوتے ہیں جو طریق ہم روزانہ کی بنیاد پر گھروں میں استعمال کر رہے ہیں اس سے ہمارے جسم میں مختلف قسم کے جراثیم بھی جنم لے رہے ہیں مختلف طبی معائنہ اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں یہ بات ثابت کریں گے اس ویڈیو میں لیکن تفصیلات میں جانے سے پہلے آپ سبھی دوستوں سے التماس ہے کہ اگر آپ نے ابھی تک ہمارا چینل دعوت ٹیچر سبسکرائب نہ کیا ہو تو ایک بٹن دبا کر چینل کو ابھی سبسکرائب کر لیجئے اور ساتھ ہی بیل آئکن پر کلک کرنا نہ بھولیں تاکہ نئی آنے والی ویڈیوز بھی آپ تمام احباب تک پہنچ گیا ہے اور آپ مستقبل میں بھی تمہاری چینل کی مختلف دلچسپ اور ان پر میڈی ویڈیو سے فوائد اٹھا کر ہے تو سامنے کرام آپ کو آپ سبھی کو یہ بات جان کر یقیناً حیرت ہو گی کہ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے لاکھوں لوگ غلط طریقے سے چاول پکا کر اپنی صحت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں عام طور پر چاول ابال کر اور پتیلی میں پانی بھاپ بن جانے تک پکائیں جاتے ہیں لیکن حالیہ تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاول پکانے کا طریقہ اثرات سے بچنے کے لئے ناکافی ہے یعنی اس میں جانے کا احتمال ہو سکتا ہے

جو زہر صنعتی فضلے اور کیڑے مار ادویات کے استعمال کی وجہ سے چاولوں میں پایا جاتا ہے جو بالوں میں اس کیمیکل کی موجودگی کی وجہ سے صحت کے کئی مسائل کیسے کے دل کے امراض اور کینسر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے یعنی جب چاول کی فصل کھیتوں میں کھڑی ہوتی ہے کرنے سے پہلے ان کے اوپر جو کیڑے مار ادویات کا سپرے کیا جاتا ہے جو صنعتی فضلہ جو جو کاشتکاری کے لیے جو پانی استعمال کیا جاتا ہے زیادہ تر ہو سکتا ہے کہ وہ کسی صنعت کا نکلا ہوا کسی سنت سے خارج شیزا وہ پانی ہے جو فصلوں کو دے دیا گیا اور سب سے اہم بات یہ کہ اس چاول کی کھڑی فصل کے اوپر جو کیڑوں کو مارنے کے لیے سپرے کیا جاتا ہے جو دوائیوں کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے وہ اس طریقے سے جو عام طریقے سے گھروں میں چاول پکائے جاتے ہیں تو اس سے وہ چیز نکل نہیں پاتی جو کہ ارسینک زہر کے زراعت اس میں شامل رہتے ہیں اس سے موجود رہتے ہیں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پکائے جانے کی وجہ سے چاولوں سے آرسینی کے زراعت ختم ہوجاتے ہیں تاہم سائنسدانوں کی طرف سے یہ دعویٰ ہے کہ ایسا صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب چاولوں کو مناسب طریقے سے رات بھر کسی صاف برتن میں بھگو کر رکھا جائے کوئی ان سا یونیورسٹی الفاظ کے شعبہ بلوچی گل سائنسز کے پروفیسر اینڈی محل میں چاولوں کو 3 طریقوں سے پکانے کا تجربہ کیا تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ ان طریقوں سے آرسینک کی موجودگی کی سطح میں کتنا فرق آیا ہے ہم ان تجربات سے آپ تمام احباب کو بھی آگاہ کرتے ہیں سب سے پہلے طریقہ کی طرف سے کیا گیا وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ پہلے طریقے میں پروفیسر اینڈی مرے نے چاول پکانے کے عام طریقے یعنی ایک حصہ چاول کو دو حصے پانی کے تناسب سے استعمال کیا جس میں پانی بھاپ بن کر اڑ گیا

اس تجربے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ چاولوں میں آرسینک کی بڑی مقدار باقی رہ گئی تھی یعنی عام طور پر ہم جو گھروں میں طریقہ استعمال کرتے ہیں چاول کو پالنے کا یہ پکانے کا اس طریقے سے جو کہ تریکا نمبر ون آپ کو بتایا ہے میں نے اس طریقے سے عرض ہی نہیں کی یعنی اس سحر کی جو چاولوں کی فصل پر چھڑکاؤ کے وقت کیا جاتا ہے اس زہر کی بڑی مقدار چاول پکنے کے باوجود بھی اس میں باقی رہ گئی تھی جو کہ انسانی جسم میں خود بخود چلی جائے گی کہ جب انسان اس عمل کو کھائے گا اب دوسرے کو بتاتے ہیں کہ اس طریقے کے مقابلے میں جب انہوں نے ایک حصہ چاول کو آج اس سے پانی کے ساتھ استعمال کیا اور زائد پانی کو خارج کردیا تو آرسینک کی مقدار تقریبا آدھی رہ گئی ایک پیالہ لے اور ایک پیالہ پانی لیں بلکہ ایک پیالی چاول میں تقریبا پانچ حصے یعنی پانچ گناہ یعنی 5.42 میں استعمال کریں اور سب سے اچھی بات یہ کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چاول اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ جو جنسی استعمال ہورہی ہے وہ سب سے زیادہ چاول ہے یعنی گندم سے بھی زیادہ چاول کھایا جاتا ہے چاول ایسی چیزیں جس کے بغیر بیشتر افراد کھانا ہی نہیں کھاتے در حقیقت کی دنیا بھر میں دستیاب ہیں غذا بھی ہے ایشیا جائز کی 90 فیصد مقدار کھائی جاتی ہے وہاں اسے ایسی اجناس مانا جاتا ہے جو لگ بھگ ہر گز ا کا حصہ ہوتی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو آپ کے لیے بہتر نہیں یہ بات ایک طبی تحقیق میں بھی سامنے آ چکے ہیں سامنے کرام یہ بات جان کر آپ کو یقین ہو گیا کہ کالج آف کیمیکل سائنس کی کی کے مطابق سفید چاول بہت زیادہ استعمال ذیابطیس کا خطرہ بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ایک پلیٹ میں 200 کیلوریز ہوتی ہیں جو کہ نشاستہ سے بنی ہوتی ہیں

جو جس میں جاکر چینیاں شکر میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور جسمانی چربی میں بھی اضافہ کرتی ہیں تاہم تحقیق میں یہ بات واضح کی گئی کے خاص طریقے سے چاول پکا کر اس میں موجود کیلوریز کو 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے اور اسے صحت کے لئے زیادہ مفید بنا یا جا سکتا ہے تحقیق سے ثابت ہوا کہ چاول پکانے کے لیے جب پانی ابالا جاتا ہے تو اس میں کچے چاول ڈالنے سے قبل ناریل کا تیل شامل کردیں مکین نے بتایا کہ ناریل کے تیل کی مقدار چاول کے وزن کے تین فیصد کے برابر ہو جب چاول پک جائے تو اسے ٹھنڈا ہونے دیں اور چاولوں کو ٹھنڈا کرکے دکھائیں دوستوں جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ اس میں نشاستہ شامل ہوتا ہے اور یہ خیال رہے کہ نشاستے کی بھی کئی اقسام ہیں تاہم ذیابطیس کا خطرہ بڑھانے والی قسم کو ہضم ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا اور وہ بہت جلد گل کو اس کی شکل اختیار کرلیتا ہے جس کے بعد گلیکوجن بن جاتا ہے اگر آپ جسمانی طور پر سرگرم نہ ہو تو اس جس کی بہت زیادہ مقدار توند نکلنے کا باعث بنتی ہے اسی طرح تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کھانے پکانے کے طریقے میں تبدیلی لا کر نشاستہ کی اقسام کو بدلا جا سکتا ہے جیسا ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ یہ تو چاول نشاستے سے بھرپور غذا ہے اور یہ سمجھ آتی ہے لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ چاولوں کی صحت کے لئے مفید ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ کھائے جانے والے چاول کس قسم کے ہیں تو آپ کو بتا دیں کہ حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ سفید چاول غذائیت کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں سفید چاولوں سے ملوں میں پروسیسنگ کے دوران وٹامن بی آئرن اور ریشے صاف کر دئیے جاتے ہیں گو کہ اس میں آئرن اور وٹامن بی بھرپور مقدار میں موجود ہوتے ہیں اور پروسیسنگ کے باوجود ان کی مقدار سے پہچان لوں میں

About admin

Check Also

The best Home Remedies To Get Flawless Skin

London: These days everyone needs clean, clear and glowing skin that is free from imprints …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *