Home / Islamic Stories / زیرناف بال کاٹنے کاشعریعی طریقہ

زیرناف بال کاٹنے کاشعریعی طریقہ

ہفتہ میں ایک بار ان حصّوں کے بالوں کی صفائی کرنی چاہیئے اور سب سے بہتر دن جمعہ کا ہے۔ ان بالوں کی صفائی میں 15 دن تک تاخیر جائز ہے اور 40 دن گزرنا گناہ ہے بغل اور شرم گاہ کے بال کترانا فطری کاموں میں شامل ہیں۔ اور اسلام نے اسکی بہت تاکید کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:”یہ پانچ چیزیں انسان کی فطرت میں سے ہیں: 1 ختنہ 2۔ زیر ناف بال صاف کرنا 3۔ مونچوں کا کاٹنا4 ناخن کاٹنا 55۔ بغل کے بالوں کی صفائی” نبی کریمﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ ہر ہفتے بالوں کی صفائی کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے

ہے کہ “رسول اللہ ﷺ مونچوں کے کم کرنے، ناخن، بغل اور شرمگاہ کے بالوں کی صفائی کے 40 دن مقرر کئے ہیں کہ انکو اس سے زیادہ نہیں چھوڑنے۔ ”بغل کے بالوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ ان کو نوچا جائے۔ اسطرح کرنے سے بغل سے بدبو نہیں آئے گی اور اچھی طرح صفائی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کو نوچنے میں دشواری ہو تو پھر کاٹا جائے۔ (آج کل نوچنے کیلئے برقی مشین ملتی ہے جس سے نوچنا بہت آسان ہوتا ہے)مرد کیلئے زیر ناف بال استرے یا بلیڈ سے صاف کرنا بہتر ہے۔ مونڈھتے وقت ابتدا ناف کے نیچھے سے کرے اور پاؤڈر کریم وغیرہ کوئی بال صفا چیز لگا کر زائل کرنا بھی جائز ہے اور عورت کیلئے سنت یہ ہے کہ کریم یا پاؤڈر وغیرہ سے بال ختم کرے، استرہ نہ لگائے۔ زیر ناف صفائی کی حدود: زیر ناف کی صفائی کی حد مثانہ سے نیچے پیڑو کی ہڈی سے شروع ہوتی ہے، اسلیئے پیڑو کی ہڈی کے شروع سے لے کر مخصوص اعضا، انکے اردگر اور انکے برابر رانوں کے جوڑ تک اور پاخانہ خارج ہونے کی جگہ کے بال صاف کرنا واجب ہے زیر ناف بال کہاں تک کاٹے جائیں انکی حد کیا ہے ؟ کچھ لوگ ناف سے شروع ہو کر اور آدھی آدھی رانوں تک بال صاف کرتے ہیں اور کچھ مکمل رانیں یعنی گھٹنوں تک بال صاف کر دیتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ صرف تھوڑی سی

جگہ سے بالوں کی صفائی کرتے ہیں ۔ کیا شریعت اسلامیہ نے ان بالوں کو مونڈنے کے لیے کوئی حد بھی مقرر فرمائی ہے ؟ اور بعض لوگ سرین (دبر) کے بال بھی صاف کرتے ہیں , کیا یہ بھی زیر ناف بالوں میں شامل ہیں ؟ اور آخری بات کہ ان بالوں کو صاف کرنے کے لیے بلیڈ , سیفٹی , استرا , ہیئر ریمور کریم / صابن / پاؤڈر وغیرہ میں سے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ؟ کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ مأجور اور عند الناس مشکور ہوں ۔ الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب “زیر ناف” کا لفظ کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے حدیث میں ان بالوں کے لیے “عانہ” کا لفظ استعمال ہوا ہے جسکا اہل لغت نے ترجمہ کیا ہے “عورت کی شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال” ۔ “عانہ” در اصل اس ہڈی کو کہتے ہیں جس پر یہ بال اگتے ہیں. علم القابلہ میں اسکی مناسب وضاحت ہو جاتی ہے. لہذا زیر ناف بالوں کو کاٹنے کی حد یہی ہے کہ صرف اس جگہ کے بال کاٹے جائیں جہاں عموما عورتوں کے بھی بال ہوتے ہیں. اس سے تجاوز نہ کریں (( عورت کا نام اس مسئلہ میں اس وجہ سے لیا جاتا ہے کہ مرد کے تو عموما تمام بدن پر ہی بال ہوتے ہیں جبکہ عورت کے صرف اس مخصوص حصہ پر)) یا پھر آپ اپنے پیٹ کے نچلے حصہ کو دبا کر دیکھیں تو ایک ہڈی محسوس ہوگی. بس جہاں سے اس ہڈی کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے بال کاٹنے کی ابتداء کریں کیونکہ یہی ہڈی عانہ کہلاتی ہے اور اس پر اگنے والے بالوں کو بھی عانہ کہہ دیتے ہیں زیر ناف (عانہ کے)

بالوں کو حلق کرنے (مونڈنے) کا حکم ہے. اور یہ کام استرے یا سیفٹی سے ہی ہوتا ہے. اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی کریمیں، پاؤڈر اور سپرے بالوں کو مونڈتے نہیں بلکہ انہیں کمزور کر کے توڑتے ہیں. جبکہ شریعت کا مطلوب انہیں مونڈنا ہے اسی طرح بغلوں کے بالوں کو شریعت نے اکھیڑنے کا حکم دیا ہے. لہذا انہیں کھینچ کر جڑسے اکھیڑا جائے. مونڈنے کاٹنے یا توڑنے سے مقصد شریعت پورا نہیں ہوتا. اسی طرح کچھ لوگ رانوں کے بال بھی مونڈتے ہیں جبکہ “عانہ” شرمگاہ پر اگنے والے بال اور پیٹرو کی ہڈی کے بال ہیں رانیں نہ تو شرمگاہ ہیں اور نہ ہی پیڑو کی ہڈی “عانہ” کی توضیح میں اہل لغت نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں : الشعر المنبت حول فرج المرأۃ یعنی عورت کے سامنے والی شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال عانہ یعنی پیڑوی کی ہڈی سے اوپر اور ناف سے نیچے کے بالوں کو ثُنۃ کہا جاتا ہے (العین ج۸ ص ۲۱۷) سو اس میں خصیتین اور ذکر تو شامل ہیں، مقعد نہیں. مقعد کے بالوں کو “إسب” کہتے ہیں۔

About zahoor malik

Check Also

Alternative Loan Options for Residential Real Estate Investment

Standard mortgages are regularly the hardest to acquire for land financial specialists. A few moneylenders …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *