Home / Islamic Stories / گرم گرم کھانا کھانے کے بارے میں اسلامی تعلیمات

گرم گرم کھانا کھانے کے بارے میں اسلامی تعلیمات

بلا شبہ خیر و حكمت کی کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے نبى صلى الله عليہ وسلم نے ہمیں آگاہ نہ فرمایا ہو۔ اور نہ ہی شر کی کوئی ایسی بات ہے جس سے ہمیں منع نہ فرمایا ہو۔ جيسا کہ کھانا اور پینا انسان کی بنیادی ضرورت ہےاورانسانی صحت كا دارومدار اچھی صحت اور اسکے طریقہ استعمال پر ہے۔ اورچونکہ آپ صلى الله عليہ وسلم کی تعلیمات میں انسان کے لئے بہترین رہنمائی موجودہے گرم کھانے کھانا کیسا ہے آئیں آج اس کے بارے میں جان لیں اللہ تعالیٰ اس دسترخوان کو پسند فرماتا ہے جس کے اردگرد کھانے والے زیادہ ہوں۔ ویڈیودیکھینے کےلئے نیچے ویڈیوپرکلک کریں

گرم کھانے میں برکت کم ہوتی ہے اس کے برعکس ٹھنڈے کھانے میں برکت زیادہ ہوتی ہے۔ ٭ کھانا کھاتے وقت جوتے اتار دیا کرو کیونکہ یہ بہترین طریقہ ہے اس سے پیروں کو سکون ملتا ہے۔ حضرت ابو ہوریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ مسجد نبوی میں ایک مجمے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں کھانے کا ایک پیالہ لایا گیا جس سے بھاپ اٹھ رہی تھی اس پرآپﷺ نے مجمے میں بیٹھے تمام لوگوں سے فرمایا اللہ تعالی نے ہمیں آگ کھانے کا حکم نہیں ہے فرمایا اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم گرم کھانا کھانے سے منع فرماتے تھے اورفرماتے تھے کھانا ٹھندا کر کے کھائو کیونکہ ٹھنڈے کھانے میں برکت ہے اورگرم کھانے میں برکت کم ہوتی ہے۔ اسی طرح حضرت اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کے پاس گرم کھانا لایا جاتا تو آپ اسے اس وقت تک طعام کر رکھتے جب تک اس کا جوش نہ ختم ہو جاتا اور آپﷺ نے فرمایا کہ ٹھنٹدا کھانا کھانے میں برکت ہے۔ ” امام جعفر الصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : گرم کھانے کو ٹھنڈا ہو لینے دو کیونکہ ایک مرتبہ رسول پاک (ص) کی خدمت میں گرم کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے ٹھنڈا ہو لینے دو تاکہ کھانے کے قابل ہو جاۓ کیونکہ الله تعالیٰ ہمیں آگ نہیں کھلانا چاہتا – اور برکت بھی ٹھنڈے کھانے میں ہے ” حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کھانا پینا بسم اللہ سے شروع کرتے۔ دائيں ہاتھ سے کھاتے، اپنے سامنے سے تناول فرماتے۔ کھانا کھاتے ہوۓ ٹیک نہ لگاتے۔زمین پر بیٹھتے اور زمین پر کھاتے تھے۔” کوئ چیز اس وقت تک نہ کھاتے جب تک جان نہ لیتے کہ وہ کیا چیز ہے۔” کسی کھانے میں عیب نہ نکالتے۔ مکھن اور کھجور پسند فرماتے۔” سخت گرم مشروب پسند نہ کرتے تھے۔” پینے میں ٹھنڈی اور میٹھی چیز آپ کو سے زیادہ پسند تھی۔” پانی دائیں ہاتھ سے تین سانس میں پیتے تھے۔ کھانے میں دوسروں کو شریک کرنا پسند کرتے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ” انس! دیکھو اگر کوئ ہے جو میرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاۓ۔” اس اچھی باتوں کو دوسروں تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ صدقہ جاریا سمجھ کر زیادہ سے زیادہ شئیرکریں

About admin

Check Also

When is the End of Times Coming? – End of the World?

This is a great question and if one is to believe all that has been …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *