Home / Islamic / تندستی اتنی زیادہ تھی کہ میں کچھ غلط کرنے چلا تھا

تندستی اتنی زیادہ تھی کہ میں کچھ غلط کرنے چلا تھا

علامہ اجہوری نے اپنی کتاب ”فضائل رمضان” میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ سمندر میں کشتی پر سوار ہو کر سفر کررہے تھے تو سمندر میں سے ایک آواز دینے والے کی آواز آئی مگر اس کی صورت نہیں دکھائی پڑی۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص مجھے دس ہزار دینار دے دے

تو میں اس کو ایک ایسا وظیفہ بتا دوں گا کہ اگر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گیا ہو اور اس وظیفہ کو پڑھ لے تو تمام بلائیں اور ہلاکتیں ٹل جائیں گی۔ تو کشتی والوں میں سے ایک نے بلند آواز سے کہا کہ آؤ میں تجھ ک مزید تفصیلات کے لیے نیچے دئیے گے .ویڈیو لنک پر کلک کریں

چنانچہ کشتی والے نے دس ہزار دیناروں کو سمندر میں ڈال دیا تو اس غیبی آواز والے نے کہا کہ وہ وظیفہ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ آخر آیت تک ہے تجھ پر جب کوئی مصیبت پڑے تو اس کو پڑھ لیا کرو۔ یہ سن کر کشتی کے سب سواروں نے اس کا مذاق اُڑایا اور کہا کہ تونے دس ہزار دیناروں کی کثیر دولت ضائع کردی تو اس نے جواب دیا کہ ہرگزہرگز میں نے اپنی دولت کو ضائع نہیں کیا ہے اور مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ قرآن شریف کی آیت ضرور نفع بخش ہو گی۔ اس کے بعد چند دن کشتی چلتی رہی۔

About admin

Check Also

Small Business Health Insurance and solution

I have been a health care coverage representative for over 10 years and consistently I …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *