Home / Islamic / لڑکی کی مرضی کے خلاف جبری نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

لڑکی کی مرضی کے خلاف جبری نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

الحمدللّٰہ رب العالمین میں سنی العقیدہ اور حسینی سادات کے معزز گھرانے کی فرد ہوں، اللہ تعالی کی عطا سے دین دار اور پاک دامن اور تعلیم یافتہ ہوں ۔ میرے محترم والد صاحب عزت و شہرت رکھنے والے نیک شخص تھے اور اپنے بیٹوں سے زیادہ اپنی بیٹیوں کی دل جوئی کیا کرتے تھے اور اپنے بیٹوں کو بھی تاکید کیا کرتےتھےکہ بہنوں کا ہر طرح خیال رکھیں۔ والد صاحب کی وفات کے بعد مجھے اپنے بھائیوں سے وہ شفقت و مہربانی نہیں مل سکی جو میرے محترم والد صاحب سے مجھے حاصل تھی۔ ان سے محرومی مجھے آج بھی افسردہ رکھتی ہے۔

میرے سگے چچا نے میرے محترم والد کی وفات کے بعد مجھ سے دس برس چھوٹے اپنے “بیمار” بیٹے کے لیے میرا رشتہ بہت زیادہ اصرار سے لیا اور میرے لیے آنے والے ہر رشتے کو ٹھکرانے کا شدید دباؤ ڈالا۔ان کے اس فرزند نے یہ زیادتی تک کی کہ میری کردار کشی کی سازش کی تاکہ میری بدنامی ہو اور کہیں اور میرا رشتہ نہ ہوسکے۔ میرے بھائیوں پر میرے نکاح سے قبل اس کی یہ سازش ظاہر بھی ہوگئی علاوہ ازیں میرے مسلسل اور بار بار انکار کے باوجود میرے اسی چچا زاد سے مجھے بیاہ دیاگیا۔ جب کہ میں نے سنا ہوا تھا کہ ’لڑکی کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی اس کا نکاح نہیں کرسکتا‘۔ شادی ہو جانے کے بعد مجھ پر ظاہر ہوا کہ میرا شوہر دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ ” نامرد ” بھی ہے، بدزبانی اور گالی گلوچ اس کی عادت ہے، کوئی خرچ نہ دینا اور مجھ سے واش روم سمیت گھر بھر کی صفائی اور باندی کی طرح تمام کام کروانا، سسرال کا بہت منفی رویہ، طعنے، بد گوئی وغیرہ مجھے بہت ذلت کا احساس کرواتا ہے۔ میرے سسر باربار یہی کہتے ہیں کہ ’’تم ابھی سے گھبرا رہی ہو، اسی طرح کام کاج کرتی رہو، ہم نے تو اپنا بڑھاپا تمہارے ساتھ گزارنا ہے، تم نے ہی ہماری خدمت کرنی ہے‘‘ اور شوہر فرماتے ہیں کہ وہ مجھے نماز پڑھنے کے لیے نہیں کام کروانے کے لیے لائے ہیں۔ کام سے میں نہیں گھبراتی مگر ذلت برداشت نہیں ہوتی۔

میرے بھائی بہن سب تفریح کےلیےکہیں جارہے تھے، انہوں نے مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہا، میں نے ان کےساتھ جانے کی اپنے شوہر سے اجازت چاہی تو اس نے بہت بری طرح مجھے مارا پیٹا اور فحش گالیاں دیں۔ میں اپنے محترم والد مرحوم کی عزت کی خاطر چپ چاپ صبر کرتے ہوئےسب کچھ سہہ رہی تھی لیکن اس شدید بدسلوکی پر چپ نہ رہ سکی اور اپنے بھائیوں کو اس سانحے سے آگاہ کردیا ۔ میرے بھائیوں نے ’’تمام حقائق‘‘ جان کر بھی مجھے ذلت و اذیت سے نجات نہیں دلائی۔ دوسرے لوگ اور ملازم تک میرے ساتھ بدسلوکی دیکھتے رہے۔ مجھے شدید کرب رہا کہ سبھی کو ’’حق‘‘ حاصل ہے کہ وہ مزے سے بسر کریں، مجھے نہ جانے کیوں کوئی ’’حق‘‘ حاصل نہیں اور مجھے ہی ذلت و اذیت میں کیوں رکھا جارہاہے؟

میری والدہ محترمہ میرا درد سمجھتی ہیں لیکن شاید اپنے بیٹوں کے سامنے بے بس ہیں۔ میرے بھائی بہن مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتے رہتے ہیں کہ میں اسی طرح بسر کرتی رہوں اور وہ اپنی آسودگی کےلیے مجھے ہر طرح قربانی دیتے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ میرے رونے بلکنے کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا اور اب تو انہوں نے میرے شوہر اور سسرال کو یہ تک کہہ دیاہےکہ ’’جو چاہیں کریں، جیسے چاہیں رکھیں، ماریں، پیٹیں، ہمارے گھر کے دروازے اس کے لیے بند ہیں، ہم سے اب اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ واضح رہے کہ کچھ شاطر اور حاسد قرابت دار میرے بھائیوں کو میرے خلاف کرنے کے لیے میرے بارے میں بہتان تراشتے رہتے ہیں تاکہ میرے بھائی مجھ سے بدگمان ہوں اور مجھ سے ہم دردی نہ رکھیں۔

اس مختصر رُوداد کے بعد جانناچاہتی ہوں کہ:

میرے چچا صاحب کا اپنے بیمار نامرد بیٹے کے لیے حقیقت چھپا کر اپنے مرحوم بھائی کی بیٹی کا زبردستی رشتہ لینا دھوکا اور ظلم ہے یا نہیں ؟ ان کا یہی ارادہ ہوگا کہ سگی بھتیجی پر دباؤ ڈال کر خاموش رکھ سکیں گے، کوئی اور لڑکی انہیں بے نقاب کیے بغیر نہیں رہے گی اور یہ سب کچھ برداشت نہیں کرے گی۔
میری رضامندی نہ ہوتے ہوئے میرے بھائیوں کا زبردستی مجھے شادی پر مجبور کرنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟ انھوں نے جان بوجھ کر میری زندگی خراب کرنی چاہی اور مجھے ناروا بوجھ یا فالتو شے سمجھ کر خود سے دُور کیا۔
اپنی خاندانی ساکھ یا اپنی راحت و آسودگی کی خاطر بھائیوں کا صرف مجھے اس ذلت و اذیت میں رہنے کا شدید اور مسلسل دباؤ ڈالنااور میرے سسرال کو مجھ پر ہر طرح زیادتی روا رکھنے کا کہنا اور میری والدہ محترمہ کے ہوتے ہوئے مجھ پر میرے محترم والد کے گھر کے دروازے بند کرنا اور مجھ سے لاتعلقی کا اعلان شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟ کیا بھائیوں کو شرعا یہ اختیار ہے؟ قطع رحمی ہی نہیں وہ شدید زیادتی بھی کر رہے ہیں۔
شوہر کی دیگر بیماریوں ، نامردی ، بدزبانی اور کوئی خرچ نہ دینے کے باوجود کیا مجھے اسی طرح ذلت و اذیت ہی میں بسر کرنی چاہیے یا شریعت مجھے اس سے نجات کا اختیار دیتی ہے؟
کسی پاک دامن باحیا اور شریف خاتون پر بغیر کسی بھی یقینی ثبوت کے بہتان باندھنا اور اس کے بھائی بہنوں کو اس کے خلاف کرنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟
عزتِ نفس کی پامالی اور اس کرب و اذیت کے باوجود میں شریعت و سنّت ہی کی رہنمائی اور ہدایت کے مطابق اپنا حق جاننا اور حاصل کرنا چاہتی ہوں اور شریعت و سنّت کے مطابق ہی بسر کرنا چاہتی ہوں ۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس رُوداد کی تمام جزئیات کو سامنے رکھ کر تفصیلی جواب سے نوازیں ۔ اللہ تعالٰی آپ کو اجر عطا فرمائے۔

جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

اگر باقی تمام مسائل ایک طرف رکھ دیے جائیں، صرف آپ کے شوہر کے نامرد ہونے کی بنیاد پر ہی آپ کا بذریعہ عدالت تنسیخِ نکاح کروانا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر وہ نامرد ہے تو آپ کتنی دیر تک انتظار کریں گی؟ ایسی صورتِ حال میں انسان کے بھٹکنے اور گناہوں کے رستے پر جانے کے خدشات کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے کسی گناہ میں پڑنے کے خطرے سے آزاد ہونے کے لیے عدالت کے ذریعے تنسیخِ نکاح کروا لیں، اور عدالت کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ آپ کو جلد سے جلد سے مردہ رشتے سے آزاد کرے۔
جن لوگوں کو معلوم تھا کہ لڑکا نامرد ہے اس کے باوجود انہوں نے اس کا نکاح آپ سے کیا، ان کا یہ فعل حرام ہے۔ کیونکہ نامرد کے لیے نکاح کرنا حرام ہے۔ انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے آپ پر ظلم کیا، اور اب مزید ظلم ڈھا رہے ہیں۔ وہ اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے باغی اور حدود اللہ کو توڑنے والے ہیں۔ انہوں نے جس طرح آپ کو دھوکہ دیا ہے، آپ کا انہیں بےنقاب کریں اور ان کی دھوکہ دہی کو بااثر اور سمجھدار رشتہ داروں کے سامنے لائیں، تاکہ وہ اس ظالمانہ رشتے کے خاتمے میں آپ کی مدد کریں۔ آپ کی والدہ اور بھائیوں کا فریضہ ہے کہ آپ کی مدد کریں اور آپ کو گناہ پر مجبور نہ کریں۔

بعض معاشرتی مسائل قرآن و سنت اور ائمہ سلف نے پوری شرح و بسط سے بیان کردیئے ہیں مگر امت کی بدنصیبی کہ عوام و خواص الا ماشاءاللہ ان کے ثمرات سے مستفید نہیں ہوسکے۔ ان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ مرد چونکہ عورت پر حاکم ہے اور صدیوں سے حاکم اور ظالم کا چولی دامن کا ساتھ ہے لہٰذا عورت صدیوں سے مرد کے مظالم کا شکار ہے۔ اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی حرماں نصیبی شروع ہوجاتی ہے۔ قدیم جہالت اب بھی پوری آب و تاب کے ساتھ انسانی معاشرہ میں براجمان ہے، اس کی پیدائش پر ناک بھنویں چڑھانے کی ظالمانہ رسم آج بھی قائم ہے، جس کو قرآنِ مجید نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری سنائی جائے دن بھر اس کا چہرہ سیاہ رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے۔لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، اس خوشخبری کی بُرائی کے سبب ، کیا اسے ذلّت کے ساتھ رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے؟ وہ بہت ہی بُرا حکم لگاتے ہیں‘‘۔

اگر آپ کے رشتہ دار، بھائی اور والدہ محترمہ اس دلدل سے نکلنے میں آپ کی مدد نہیں کرتے تو وہ سب بھی گنہگار ہوں گے۔ ایک طرف انہوں نے ایک نامرد سے نکاح کر کے آپ پر ظلم کیا اور دوسری طرف وہ آپ کو گناہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ان کا مذہبی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے کہ عدالت سے تنسیخ کروا کر آپ کا نکاح کسی اور جگہ کروائیں۔
شریعت نے آپ کو معیاری زندگی گزارنے کا پورا حق دیا ہے۔ شریعت ایسے نامرد کے ساتھ رہنے پر آپ کو مجبور نہیں کرتی۔ اس کی تمام وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔
کسی پر بہتان باندھنا حرام اور اللہ و اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کا عمل ہے۔ ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے بارگاہ سے عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
ہم نے جو احکامِ شرعی بیان کیے ہیں آپ اپنی والدہ، بہن بھائیوں اور دیگر مخلص رشتہ داروں کو ان سے آگاہ کریں تاکہ وہ بطور انسان اور بطور مسلمان آپ کی زندگی کو مزید اذیت ناک ہونے سے بچائیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ ہماری یہ تحریر دکھانے کے بعد آپ کی مدد ضرور کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت عطا فرمائے۔

About admin

Check Also

A little history about Flood protection

For mortgage holders without flood inclusion the realities are awkward, as they are difficult: a …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *