Home / Stories / بوڑھے والدین اور فائیو سٹار ہوٹل

بوڑھے والدین اور فائیو سٹار ہوٹل

لاہور(ویب ڈیسک)ایک نوجوان اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ کسی مہنگے ہوٹل میں کھانا کھانے گیا۔ ماں باپ تو نہیں چاہتے تھے، لیکن بیٹے کی خواہش تھی کہ وہ انہیں کسی مہنگے ہوٹل میں ضرور کھانا کھلائے گا، اِسی لیے اُس نے اپنی پہلی تنخواہ ملنے کی خوشی میں ماں باپ

جیسی عظیم ہستیوں کے ساتھ شہر کے مہنگے ہوٹل میں لنچ کرنے کا پروگرام بنایا۔ باپ کو رعشے کی بیماری تھی، اُسکا جسم ہر لمحہ کپکپاہٹ میں رہتا تھا، اور ضعیفہ ماں کو دونوں آنکھوں سے کم دیکھائی دیتا تھا۔ یہ شخص اپنی خستہ حالی اور بوڑھے ماں باپ کے ہمراہ جب ہوٹل میں داخل ہوا تو وہاں موجود امیر لوگوں نے سیر سے پیر تک اُن تینوں کو یوں عجیب و غریب نظروں سے دیکھا جیسے وہ غلطی سے وہاں آ گئے ہوں۔ کھانا کھانے کیلئے بیٹا اپنے دونوں ماں باپ کے درمیان بیٹھ گیا۔وہ ایک نوالہ اپنی ضیعفہ ماں کے منہ میں ڈالتا اور دوسرا نوالہ بوڑھے باپ کے منہ میں۔ کھانے کے دوران کبھی کبھی رعشے کی بیماری کے باعث باپ کا چہرہ ہل جاتا تو روٹی اور سالن کے ذرے باپ کے چہرے اور کپڑوں پر گر جاتے۔ یہی حالت ماں کے ساتھ بھی تھی، وہ جیسے ہی ماں کے چہرے کے پاس نوالہ لے جاتا تو نظر کی کمی کے باعث وہ انجانے میں اِدھر اُدھر دیکھتی تو اُس کے بھی منہ اور کپڑوں پر کھانے کے داغ پڑ گئے تھے۔ اِردگرد بیٹھے لوگ جو پہلے ہی انہیں حقیر نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، وہ اور

بھی منہ چڑانے لگے کہ، “کھانا کھانے کی تمیز نہیں ہے اور اتنے مہنگے ہوٹل میں آ جاتے ہیں۔۔۔!”۔ بیٹا اپنے ماں باپ کی بیماری اور مجبوری پر آنکھوں میں آنسو چھپائے، چہرے پر مسکراہٹ سجائے۔ اِردگر کے ماحول کو نظرانداز کرتے ہوئے، ایک عبادت سمجھتے ہوئے انہیں کھانا کھلاتا رہا۔ کھانے کے بعد وہ ماں باپ کو بڑی عزت و احترام سے واش بیسن کے پاس لے گیا، وہاں اپنے ہاتھوں سے اُنکے چہرے صاف کیے، کپڑوں پر پڑے داغ دھوئے اور جب وہ انہیں سہارا دیتے ہوئے باہر کی جانب جانے لگا تو پیچھے سے ہوٹل کے مینجر نے آواز دی اور کہا، “بیٹا! تم ہم سب کیلئے ایک قیمتی چیز یہاں چھوڑے جا رہے ہو۔۔۔!” اُس نوجوان نے حیرانگی سے پلٹ کر پوچھا، “کیا چیز۔۔۔؟” مینجر اپنی عینک اُتار کر آنسو پونچھتے ہوئے بولا۔۔۔! “نوجوان بچوں کیلئے سبق اور بوڑھے ماں باپ کیلئے اُمید۔۔۔!”ایک اور واقعہ کے مطابق حضرت شیخ بہلول دریائی ؒ مشائخ عظام اور اولیائے کرام میں قابل قدر شخصیت تھے ۔ حضرت شاہ لطیف بری امام ؒ کے نامور مرید و خلیفہ تھے۔ صاحب علم و فضل و زہد و تقویٰ تھے۔ اپنے معاصرین میں ممتاز تھے۔خزینۃ الاصفیہ سمیت علم تصوف کے محقق مفتی سرور قادری اور دیگر محقیقین نے اپنی کتابوں

میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ بہلول دریائیؒ اپنے مرشد کی وفات کے بعد عراق و عجم کی سیاحت کو نکلے۔ پہلے نجف اشرف پہنچے۔ دو سال تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مزار اقدس پر اعتکاف کیا۔ وہاں سے کربلا آئے۔ حضرت حسینؓ کے مزار پر تین ماہ حاضری دیتے رہے وہاں سے مکمہ معظمہ آئے۔ مناسک حج ادا کیے۔یہاں سے مدینہ منورہ آئے۔ روضہ رسول اکرم صلی اللہ علی وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ پھر مشہد مقدس آئے۔ حضرت علی رضاؓ کے مزار پر حاضری دی تو بشارت پائی ’’ ایک مرد حق فلاں پہاڑ کی غار میں بیٹھا ہوا ہے۔ جو سلسلہ قادریہ ہی سے منسلب ہے اس کے پاس جاؤ اور اپنا حصہ لو۔ اگر چہ وہ مرد مجذوب ہے مگر پیر روشن ضمیر ہے ‘‘اشارہ غیبی پاتے ہی آپ وہاں پہنچے تودیکھا کہ غار میں ایک مرد کئی سال سے مراقبہ میں بیٹھا ہوا ہے۔ سوائے اس کے اور کوئی غار میں نہیں۔ اس کے چند خادم باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ شیخ نے اس بزرگ کا حال ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا ’’ شیخ ہر روز ایک مرتبہ مراقبہ سے سر اٹھاتے ہیں اور حاضرین پر نظر ڈالتے ہیں۔ لیکن ایک روز ان کی نظر میں تاثیر جلالی ہوتی ہے اور دوسرے روز تاثیر جمالی۔ آج نظر جلالی کا دن ہے۔ اس نظر کی کوئی شخص تاب نہیں لا سکتا‘‘ چنانچہ آپؒ نے اس روز توقف کیا۔ دوسرے روز علی الصبح غار میں پہنچے اور مجذوب کی نظر فیض اثر سے فیوض و برکات حاصل کئے۔ حضرت شیخ بہلول دریائی ؒ کا مزار چنیوٹ کے علاقہ میں ہے۔(ذ،ک)

About admin

Check Also

طلاق ہے

460 ایک منافق انتہائی بخیل تھا، اس نے اپنی بیوی کو قسم دی کہ اگر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *