Home / Stories / مشورہ دوسری شادی

مشورہ دوسری شادی

ایک بیوی کی حیثیت سے ایک عورت کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟ * کیا ایک بیوی ایک خاندان کے بہتر مستقبل کی معمار ہو سکتی ہے؟ * کیا آپ کا شماربری اور جاہل قسم کی بیویوں میں تو نہیں ہوتا؟ * اگر ایسا ہے تو کیا آپ نے کبھی اپنی ذات میں ان خامیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو آپ کو آپ کو اس صف میں شمار کرتی ہیں۔ * کیا آپ ان خامیوں کو دور کر کے خود کو ایک بہتر خاتون،بیوی اور ماں ثابت کر سکتی ہیں؟ کونسی نشایاں ہوں تو دوسری شادی کر لینی چاہئے؟ دیکھیں اس اردو کے نیچے ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کونسی شانی ہو تو مرد
1: پہلی نشانی شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرنا: ایک جاہل بیوی ہمیشہ اپنے شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرتی ہے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہنے کے بجائے ایک مناسب

فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ کبھی خوشدلی سے پیش نہیں آتی اورمعمولی باتوں پر سسرالیوں سے لڑجھگڑ گھر میں تناؤ کی کیفیت پیدا کرلیتی ہے۔ 2: شوہر کو اہمیت نہ دینا جاہل بیوی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ کبھی شوہر کو وہ اہمیت نہیں دیتی جس کا وہ حق دار ہے۔ایسی اکثر بیویاں شوہر کو محض پیسہ کمانے کی مشین سمجھتی ہیں اور شوہر کی بجائے اس کی آمدنی پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔شوہر کو بہرصورت بیوی کی ایک مناسب اور بے غر ض توجہ درکار ہوتی ہے جس سے لاپرواہی فاصلوں کو جنم دیتی ہے۔ 3: گھر پہ توجہ نہ دینا جہالت کی ایک نشانی اپنے گھر پر توجہ نہ دینا بھی ہے۔ایسی بیوی گھریلو معاملات سے لاپرواہ سی نظر آتی ہے۔حتیٰ کہ گھر کے ضروری کام کاج اور اہم معاملات بھی جو ایک عورت ہی کی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں ادھورے پن کا شکار نظر آتے ہیں۔ایسی خاتون کا گھر صفائی ستھرائی سے عاری نظر آتا ہے ۔یہ ماحول آہستہ آہستہ گھر کے افراد کے رویوں میں بھی رچ بس جاتا ہے اور معیارِزندگی کو زوال کا شکار بنا دیتا ہے۔ 4: بچوں پر توجہ نہ دینا ایک جاہل اور لاپرواہ مزاج کی حامل بیوی گھر کے ساتھ ساتھ بچوں کے معاملات میں بھی بے توجہی برتتی ہے۔وہ نہ تو خود زندگی کے درست طور طریقوں کو اہمیت دیتی ہے اور نہ ہی بچوں کو ان کا درس دیتی نظر آتی ہے۔اس ماحول میں پلنے والے بچے کبھی بھی زندگی کی صیح اقدار سے آگاہ نہیں ہوپاتے کیونکہ بحرحال ایک بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ بچوں کے معاملے میں اس فرض اس سے کوتاہی میاں بیوی کے درمیان شکوے شکایتوں کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ 5: وقت کی پابندی نہ کرنا جاہل بیوی کو وقت کی اہمیت کا قطعاً ادراک نہیں ہوتا۔اسکے بچے سکول اور شوہر آفس ہمیشہ لیٹ ہی پہنچتا ہے۔ناشتہ، لنچ یا ڈنر وغیرہ کے کوئی

اوقات مقرر نہیں ہوتے۔ٖاس خاتون کے گھریلو امور افراتفری کا شکار رہتے ہیں۔مناسب ٹائم مینجمنٹ کی عدم موجودگی افرادِخانہ کے مزاج میں چڑچڑے پن کوجنم دیتی ہے اور گھر کا پرسکون ماحول بد نظمی کی نظر ہو جاتا ہے۔ 6: شوہر سے بدزبانی معمولی لڑائی جھگڑوں میں بعض اوقات مصلحتاً خاموشی اختیار کر لینا اور غلطیوں کواگنور کر دیناگھریلو ماحول پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔مگر ایک جاہل بیوی ان خصوصیات سے ناآشنا ہوتی ہے۔معمولی باتوں پر بحث وتکرار اور پھر بدزبانی پر اتر آتی ہے ۔اس کا رویہ شوہر کے ساتھ عزت و احترام سے عاری ہوتا ہے۔بحث و تکرار، بد زبانی و بد تہذیبی کا یہ رویہ بالآخر شوہر کو گھر اور بیوی سے بددل کر دیتا ہے۔ 7: شوہر کی گھر آمد کو اہمیت نہ دینا اس آرٹیکل کو پڑھنے والی تمام خواتین سے میری گزارش ہے کہ ایک لمحے کے لئے ذرا یہ تصور کیجیئے کہ آپ ایک شوہر ہیں جو اپنے کام سے تھکا ہارا ،بھوکا پیاسا واپس آیا ہے اور آپ کی بیوی نے نہ تو آپ کی آمد ہی کو اہمیت دی ،نہ آپ کے ہاتھوں میں پانی کا گلاس تھمایا اور نہ کھانے کا پوچھا۔تو آپ کیسا محسوس کریں گی؟ ایک جاہل بیوی شوہر کی آمد پر ایسے ہی رویے کا مظاہرہ کرتی ہے۔ 8: دوسری عورتوں کے سامنے شوہر کی برائی بیان کرنا ایک جاہل بیوی شوہر کی خوبیوں پر کم اور خامیوں پر زیادہ توجہ رکھتی ہے۔نہ صرف یہ بلکہ وہ دیگر خواتین اور لوگوں کے سامنے بھی بڑے دکھ کے ساتھ ان خامیوں کا تذکرہ کرتی نظر آتی ہے۔اسے اس حقیقت کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ شوہر کی خامیوں کا دوسروں کے سامنے یوں برملا اظہار ان خامیوں کو دور تو نہیں کرسکتا ہاں مگر گھر کی فضا میں کچھ پیچیدگیاں ضرور پیدا کر دیتا ہے۔
9: شوہر کے والدین سے بدتمیزی شوہر کے ماں باپ کی عزت نہ کرنا اور ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آناجاہل بیوی کی سب سے اہم نشانی ہے۔یہ رویہ گھریلو ماحول میں عدم برداشت کے عناصر کوجنم دیتا ہے ۔

About admin

Check Also

طلاق ہے

459 ایک منافق انتہائی بخیل تھا، اس نے اپنی بیوی کو قسم دی کہ اگر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *