Home / Stories / حضرت داتا علی ہجویریؒ کی کرامت

حضرت داتا علی ہجویریؒ کی کرامت

ایک مرتبہ حضرت علی ہجویریؒ کو کسی دریا کو عبور کرنا تھا۔۔۔ دریائے سندھ جیسے بڑے دریا کو عبور کرنے میں کوئی آدھا پونہ گھنٹہ لگ جاتا ہے، کیونکہ آدمی دریا کو بالکل سیدھا کراس نہیں کر سکتا، بلکہ ذرا اپ اسٹریم جا کر دور سے وہ کشتی چلاتے ہیں اور چونکہ اوپر سے ہوا کا دباؤ بھی تھا اس لیے کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتے ہوئے ترچھا کراس کیا جاتا ہے۔۔۔ حضرت کشتی پر بیٹھ گئے اور سفر شروع کر دیا، ہوا بہت تیز چل رہی تھی، آپ کے سر کے اوپر ٹوپی تھی خیال

آیا کہخیال آیا کہ ٹوپی اڑ

کر پانی میں نہ چلی جائے، چنانچہ حضرت نے ٹوپی اتار کر جیب میں ڈال لی اور ذکر و مراقبہ میں مشغول ہو گئے۔حضرت نے ایک دو دن پہلے سر کا حلق کروایا تھا۔۔۔ ٹنڈ کروانے کو حلق کروانا کہتے ہیں، جب نئی نئی ٹنڈ ہوتی ہے تو بڑی خوش نما نظر آتی ہے۔۔۔ وہاں کشتی میں ہی قریب سے ایک بچہ گزرا تو اس نے دیکھا کہ اتنا صاف ستھرا ہے، چنانچہ اس نے سر پر ہاتھ پھیرا تو بڑا ملائم نظر آیا، اس نے جا کر دوسرے کو بتا دیا، اب دوسرالڑکا بھی ہاتھ پھیرنے کے لیے آیا، اس کو بھی بڑا اچھا لگا، اس نے جا کر تیسرے کو بتایا، وہ تیسرا ذرا شرارتی قسم کا تھا، جب وہ آیا تو اس نے آ کر سر پر ہاتھ بھی پھیرا اور ٹھوکا بھی لگا دیا، اس پر باقی بچے ہنسنے لگے، یہ اللہ کے بندے اللہ کے ذکر میں مست بیٹھے رہے، انہیں احساس ہی نہ ہوا کہ بچے کیا کہہ رہے ہیں، ایک دوسرے بچے نے تھپڑ بھی لگا دیا۔ ان بچوں کی بدتمیزی کو دیکھ کر قریب کے مردوں اور عورتوں نے ہنسنا شروع کر دیا، اب یہ شغل بن گیا کہ بچہ آتا اور ان کے سر پر تھپڑ لگاتا اور ساری کشتی کے لوگ ہنسنے لگتے، ان کے لیے مذاق بن گیا، جب کشتی والوں نے مذاق اڑایا تو پھر اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے بندے کا مذاق اڑانے پر جلال آ گیا، حدیث قدسی میں آیا ہے، ’’جو میرے والی سے دشمنی کرتا ہے میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔‘‘چنانچہ جب انہوں نے یہ بدتمیزی کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت گنج بخش کے دل میں الہام فرمایا کہ اے میرے پیارے! یہ اتنی بدتمیزی کر رہے ہیں آپ کی شان میں گستاخیاں کر رہے ہیں اور آپ کا اتنا صبر کہ اس کو برداشت کرکے بیٹھے ہوئے ہیں،

اگر آپ بددعا کریں تو میں اس پوری کشتی کو ہی الٹ دیتا ہوں۔کہتے ہیں جیسے ہی ان کے دل میں یہ الہام ہوا تو حضرت نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی:اے اللہ! اگر آپ کشتی الٹنا ہی چاہتے ہیں تو ان سب کے دلوں کی کشتی الٹ دیجئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی، کہتے ہیں کہ اس کشتی میں جتنے مرد اور عورتیں تھیں، ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے موت سے پہلے ولایت کا نور عطا فرما دیا۔یہ ہوتی ہے مثبت سوچ، اللہ والوں کی ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ ایسے حالات میں بھی ان کی زبان سے بددعا نہیں نکلتی، بلکہ ان کی زبان سے دعائیں نکل رہی ہوتی ہیں۔

About zahoor malik

Check Also

طلاق ہے

459 ایک منافق انتہائی بخیل تھا، اس نے اپنی بیوی کو قسم دی کہ اگر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *