Home / Islamic / کسی کے دماغ میں داخل ہو کر اپنا پیار ڈالنے کا عمل!

کسی کے دماغ میں داخل ہو کر اپنا پیار ڈالنے کا عمل!

السلام علیکم دوستو پیارااسلام چینل پر آپ سب مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید سب سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیت اور وراثت سے کون واقف نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو باب العلم کا لقب دیا یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں علم کا شہر ہوں علی اسکا دروازہ ہے یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے لوگوں نے علم کے اس دروازے سے فائدہ اٹھایا اور تاقیامت فائدہ اٹھاتے رہیں گے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی سے ایسے کئی واقعات منسوب کئے جاتے ہیں اور ایسے کی فرمان بیان کیا جاتے ہیں جو کہ نہ صرف ماضی کے کئی سالوں سے لوگوں کی زندگی کے مسلے راہ ثابت ہوئے بلکہ آنے والے زمانے میں بھی وہ لوگوں کی راہ سلجاتے جاتے رہیں گے اور عقل و دانش کی نئی راہ دیکھاتے رہے گئے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت سے ملے علم کا یہ عالم تھا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ جب ممبر پر بیٹھتے تو سلونی سلونی کی آوازیں لگاتے جس کا مطلب ہے پوچھو مجھ سے جو پوچھنا چاہتے ہو میں اس کا جواب دوں گا اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دستہ ادب کو جھوڑ کر عرض کرنے لگا!

یا علی میرے کوچھ دوست ہیں جو میرے بارے میں کچھ غلط سوچ رکھتے ہیں میں بار بار ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن وہ لوگوں کی باتوں پر یقین کرکے مجھے ہی برا سمجھتے ہیں اب میں کیا کروں بس یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کاش انسان تجھے یہ علم ہوتا کہ اللہ نے انسان کے وجود میں ایک ایسی طاقت رکھی ہے جس کے وسیلے سے وہ کسی کے بھی دماغ میں اپنی بات ڈال سکتا ہے تو وہ حیرت سے پوچھنے لگا یا علی! ایسی کیا چیز ہے جس سے میں کسی کے بھی دماغ میں اپنی سوچ ڈال سکتا ہوں!

بات جب یہاں تک پہنچی تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا انسان کے دماغ کا اختیار صرف انسان کے جسم پہ ہی نہیں بلکہ پوری کائنات پہ ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ انسان اپنی محدود زندگی اور اپنی خواہشات میں اپنے آپ کو اتنا مصروف رکھتا ہے کہ وہ اس دماغ سے فائدہ اٹھانا نہیں جانتا تو اس نے کہا یا علی میں کیسے اپنے دوستوں کے دماغ میں اپنے لیے بھی سوچا لو بس یہ کہنا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تم فجر کی نماز پڑھو اور اس کے بعد کھلے آسمان کے نیچے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے کچھ لمحات کیلئے پرسکون ہو جاؤ جب نہ تمہارے ماضی کی یادیں نہ مستقبل کی فکر تمہارے دماغ میں ہو تو اس وقت تم اپنی آنکھیں بند کرکے اس کائنات کی حرکت کو محسوس کرو اور پھر اس کائنات کی خلقت کے بارے میں سوچنا چاہتے ہو اس کو غور و فکر کے ساتھ اپنے سامنے رکھیں اور پھر ہلکی آواز میں وہ کہو جو تم اس کے دماغ میں ڈالنا چاہتے ہو جب یہ عمل کرو گے تو اس انسان کے وجود میں تمہارے لئے وہ سوچ پیدا ہوگی جو تم نے خود اس کے دماغ میں ڈالیں ہوگی اچھی بات دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اسلام کو دوسروں تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں جزاک اللہ

About admin

Check Also

ایک جمعہ سے اگلے جمعہ تک کےلیےخاص وظیفہ

439 بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ انکے ہاتھ میں پیسہ نہیں ٹکتا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *