Home / Amazing and Interesting / کرتا پور باڈر کھل گیا کیا اصل کھیل کیا ہونے جا رہا ہے؟

کرتا پور باڈر کھل گیا کیا اصل کھیل کیا ہونے جا رہا ہے؟

السلام علیکم آج کل پورے بھارت کے اندر ایک ہی شو کھڑا ہے وہاں شوہر دھوکا اور کرتارپور بارڈر پر بھارت کے میڈیا میں صبح شام کیمپین چل رہی ہے کہ پاکستانی کرتارپور کا باڈر جو کھلا ہے اس پر پاکستان کی ایسی کو کو اپنی طرف کرے یہ اور خالصتان کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے باقاعدہ یہ آپ کی سکرین پر ان کی طرف سے معاملات چل رہے ہیں کہ کیا کھیل چل رہا ہے سب سے پہلے آپ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں جب عمران خان کی حکومت آئی عمران خان کی اورٹیکنگ سرمنی تھی تو نوجوت سنگھ سدھو .

تو کی گھڑیوں نے آپ کو معاملہ بتایا تھا کہ یہ معاملہ کچھ اور ہے اور سدھو کو بھیجا تھا مودی سرکار نے کیوں بھیجا تھا لیکن ان ہتھ عامر خان نے اور آنا تھا کپل دیو ہیں اور اس کے علاوہ بھارت کے کئی صحافیوں نے لیکن مودی سرکار خاص کر ان پر بین لگا دیا تھا اور جس کا دور دور تک کوئی چانس نہیں تھا انہیں پاکستان کی سیاست میں آنے کے بعد پاکستان کے معاملات فرنٹ ہو گئے ورنہ امریکہ سے لے کر امریکی کانگریس ریپبلکن اس کے علاوہ آپ بھارتی کانگریس بی جے پی یہ آپ ذرا اٹھا کر دیکھیں ان کے لوگوں نے آپس میں دوسرے کے ساتھ رشتہ داریاں کی ہوتی ہے مودی سرکار نے عمران خان کی حکومت آنے کے بعد اس بات کو تسلیم کرلیا تھا کہ پاکستان میں انتہائی مضبوط حکمران آچکا ہے کہ وہ بندہ نہیں ہے جس کو حملے لندن میں تیار کیا تھا جو نواز شریف کا جو مسعود یہودی سائنس اور رنگ کے لوگوں سے ٹینک لے کر پاکستانی درخواست کرکے کے بجائے پیغام لے کر کے ہم الیکشن سے پہلے آپ سے بات نہیں کرسکتے الیکشن کے بعد بات کریں گے سندھو آئے تو جنرل باجوا نے جو پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ ذہین ترین جنرل پائے گئے ہیں

انہوں نے انتہائی ذہانت دکھائی آپ راحیل شریف اور جنرل باجوہ کا مقابلہ کریں گے تو ان کی کنٹری بیوشن اپنی جگہ لیکن جنرل باجوہ کے دور میں پاکستان جتنا مضبوط ہوا جو کامیابیاں حاصل کیں وہ کمال ہے جرنل رحیل فرنٹ پر لیٹتے تھے جنرل باجوہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والا بندہ یہ پیچھے رہ کر کام کرتے ہیں انتہائی خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم کرتارپورباڈر کھولنا چاہتے ہیں انڈیا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اگر جنرل باجوہ کی ان کو یہ بات کا پتہ ہوتا ہے وہ کبھی سروں کو نہ بھیجتے ہیں تو کس کام کے لئے آئے تھے وہ بھول گئے مطلب انہوں نے پیغام پہنچا دیا وہ ان کا سارا فوکس ہو گیا کرتار پور سر پر مل گیا رب اس روایت کو سمجھے کہ بھارت کا سکھ کبھی بھی خوش دلی سے اپنے آپ کو بھارتی نہیں کہتا اب دنیا بھر میں چلے جائیں گی ٹیکسی والے آپ کو ملیں جس سے داڑھی نہ بھی رکھے آپ ان کو پہچاننے کی شادی پاکستان سے اپنے آپ کو یہ نہیں کہ بھارت سے ہوکے میں پنجاب کے سکھوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ پنجابی رکھا جو کسی کو پر ہوا ہے اس کے اندر اس کی کوئی مثال ہے سکھوں نے جو مسلمانوں پر پاکستان کے مسلمانوں پر لائن 343 کے اندر جنم کیا آپ کو شاید اندازہ نہیں ہے 90 دن کے بڑوں نے پاکستان کو لیٹر لکھے بڑے بڑے عہدے داروں سے معافی مانگیں گے ہمارے آباؤ اجداد نے آپ کے ساتھ اچھا نہیں کیا ہم آپ کے ساتھ معافی نامے بھیجے انہوں نے کہ ہمارے بڑوں نے آپ کے ساتھ اچھا نہیں کیا حمایت بھی سمجھ جانا چاہیے نہیں دوں گا

خیر وہ بڑے نواز شریف زرداری نہیں کہ سمجھنے والے اشارہ سمجھ کس کی بات کریں تو اس قابل نہیں ہے انہوں نے معافی مانگی کہ یہ میں دیر سے سمجھایا پاکستان کے ساتھ ان کا رشتہ بہت زیادہ ہے کیونکہ ننکانہ صاحب سے جن کا رشتہ ہے ہر سکھ تڑپتا ہے کہ وہ پاکستان آئے جس طرح ہم مسلمان مکہ جانے کو تڑپتے ہیں وہ سب ننکانہ صاحب نے کو تڑپتے ہیں بھارت سے اتنا بھی کا رشتہ نہیں ہے جتنا پاکستان سے مگر وہ بولتے ہیں اور کینیڈا میں جا کر دیکھیں وہ ایسا لگتا ہے کسی کے سیکھیں لندن میں آپ کو جتنا سکھ ملے گا آپ حیران ہوں گے کیونکہ وہ لائن بھولے نہیں بولو بھارت میں خوش نہیں ہے وہ باہر رہتے ہیں ان کی مسلمان رہتی ہے لیکن ان کا دل کہیں اور ہے اگر جگہ بھائیوں نے کرتارپورباڈر کھول دیا تو صرف پاکستان پر فدا ہو چکے مودی نے منع کیا تو وہاں پر ایک بغاوت کی تحریک سے اٹھنے کے ان کو بوائے وہ اپنے آپ کو آج بھی پنجابی کہتے ہیں اب نواز شریف کے دور میں انسان کے پنجاب کو توڑ کر بھارت کے ساتھ ملا دیا جائے بھارتی پنجاب کے ساتھ گریٹر پنجاب ہوٹل ہندی نہ ناکام ہوا وہ تو بھی سوچ میں تھا ان کے کیونکہ وہ فوت ہو نہیں سکتا تھا آپ کی فوج کے ہوتے ہوئے اب بھارت کو فکر حاصل ہورہی ہے کہ بغاوت کر سکتی ہے بھارت کے اندر کے پاکستان محبت بھی کھا رہا ہے بھارتی پروپیگنڈا شروع کردیا بھیجنے کی وجہ سے کروا دیا