Home / Stories / مسجد کی جانب روانہ ہوا مگر تھوڑی ہی دور جاکر وہ رستے میں گر پڑا

مسجد کی جانب روانہ ہوا مگر تھوڑی ہی دور جاکر وہ رستے میں گر پڑا

ایک آدمی فجر کی نماز کیلئے بیدار ہوا، تیار ہوکر مسجد کی جانب روانہ ہوا مگر تھوڑی ہی دور جاکر وہ رستے میں گر پڑا اور اسکے کپڑے خراب ہوگئے۔ وہ اٹھا اور گھر واپس آکر کپڑے بدلے اور دوبارہ مسجد کی جانب روانہ ہوا، لیکن وہ دوبارہ گر پڑا ٹھیک اُسی جگہ پر، مگر وہ پھر اٹھا اور واپس جا کر پھر سے لباس تبدیل کرکے مسجد کی جانب چل پڑا۔ تیسری دفعہ اُسے رستے میں ایک آدمی لالٹین پکڑے ملا، پہلے آدمی نے لالٹین والے آدمی سے اُسکی شناخت معلوم کی تو وہ بولا کہ میں نے آپکو دو مرتبہ اس جگہ پہ گرتے ہوئے دیکھا، تو میں یہ لالٹین لے آیا تاکہ آپکے کیلئے روشنی کرسکوں۔ پہلے آدمی نے اُسکا شکریہ ادا کیا اور دونوں مسجد کی جانب روانہ ہوئے۔

جب وہ مسجد پہنچے تو پہلے آدمی نے روشنی کرنے والے آدمی سے نماز کا پوچھا تو اُس نے انکار کیا۔ پہلے آدمی نے کئی دفعہ پوچھا مگر ہر بار لالٹین والے آدمی کا جواب “انکار” میں ملتا۔ آخر پہلے آدمی نے وجہ پوچھی کہ کیوں نہیں آرہے نماز کیلئے؟ تب وہ آدمی جواب میں کہنے لگا کہ “میں شیطان ہوں”۔ پہلا آدمی کافی حیران ہوا کہ آخر ایک شیطان میرے مسجد تک جانے کیلئے روشنی کرکے نیکی کا کام کیسے کرسکتا ہے۔ تب شیطان نے اُس آدمی کو مخاطب کرکے بتایا کے میں نے تمہیں مسجد کی طرف آتے دیکھا تو میں نے تمہیں گرایا، تم گھر گئے، خود کو صاف کیا اور پھر مسجد کی طرف روانہ ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے تمہارے سارے گناہ معاف فرما دئیے۔ لیکن بالکل اسی جگہ پہنچ کر میں نے دوبارہ تمہیں گرایا مگر وہ بھی تمہیں مسجد نا جانے پر نہ ابھار سکا
اور تم پھر تیار ہوکر مسجد کی جانب چل پڑے، اور اسکی وجہ سے رب تعالیٰ نے تمہارے اہل و عیال کے گناہ معاف فرما دئیے۔ تب میں ڈر گیا کہ اگر میں نے تمہیں ایک اور دفعہ گرایا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ساری دنیا کے انسانوں کے گناہ معاف فرما دے۔ بس اسی لئے میں نے تمہارے لئے روشنی کی تاکہ تم بخیر و عافیت مسجد پہنچ جاؤ. اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی بھی نیک کام کو انجام دینے میں جتنی بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے انہیں برداشت کیجئے۔

انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہر مشکل و ہر آزمائش و امتحان پہ رب تعالیٰ اپنے بندے کو کتنا اجر دیتا ہے اور اسکا مقام کتنا بلند ہوتا جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا کہ “رب تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اسکا مقام و مرتبہ مزید بلند ہوسکے”۔ کسی بھی اچھے اور نیک کام کو چھوٹا نہ سمجھئے کہ ایک انسان اسکی قیمت کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

About admin

Check Also

نماز کے دوران شیطانی وسوسو سے بچنے کا آسان طریقہ

2,132 پرانے زمانے میں ایک بادشاہ کے دربار میں چند درباری بادشاہ کے سامنے یہی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *