Home / Islamic / شریعت کی وہ حدود جس کا ہر مسلمان کو عمل ہونا چاہیے

شریعت کی وہ حدود جس کا ہر مسلمان کو عمل ہونا چاہیے

میاں بیوی کے تعلقات میں کچھ ایسے اعمال ہیں جن کو ہم معمولی سمجھتے ہیں۔جو شریعت میں سنگین جرم ہیں۔کبھی کبھار لگتا ہے کہ یہ بے حیائی کی باتیں ہیں یہ بے حیائی نہیں ہے یہ شریعت کا علم ہے ہاں اگر ہم اس طرح کی باتیں اپنی خواہش کے مطابق کریں تو یہ بے حیائی ہے۔خیر ہم واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ پہلا گناہ جس کو میاں بیوی کے تعلقات میں معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کا اپنے شوہر کو ۔۔۔۔۔۔ کےلیے انکار کرنا اپنے شوہر کو اپنے نزدیک آنے سے انکار کرنا۔نبی اکرم ﷺ جامع صغیر میں یہ روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو بلائے تو عورت پر واجب ہے کہ وہ فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے”ما سوائے شرعی عذر کے ،شرعی عذر کی وجہ سے بیوی انکار کر سکتی ہے۔یعنی ایسی کوئی شرعی مجبوری (مثلاً حیض،ماہواری وغیرہ)ہو تو وہ الگ بات ہے۔

لیکن اگر شرعی عذر نہیں ہے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ!”وہ (عورت)فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے خواہ وہ انٹ کے کجاوے(اونٹ کی وہ سیٹ جس پر بیٹھ کر سواری کی جاتی ہے) پر ہی بیٹھا کیوں نہ بلا رہا ہو۔” اس معاملے کو خواتین جو بیویاں ہیں جو اپنے شوہر کو حق دینا چاہتی ہیں وہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جب اس معاملے میں کوتاہی ہوتی ہے تو انسان دوسری جگہ اپنی خواہشات تو پوری کرنے جاتا ہے اور یہ بات بھر بیوی برداشت نہیں کرسکتی اس لئے شریعت نے اس معاملے کی اہمیت بیان کی ہے۔ دوسر ی روایت صحیح بخاری کی ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائےاور بیوی انکار کر دےاور شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کی حالت میں سو جائے تو جب تک وہ ناراضگی کی حالت میں سوتا رہے گا فرشتے بیوی پر لعنت بھیجتے “رہیں گے۔دوسراگناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے جب کہ شریعت میں اس کا اتنا سخت گناہ ہے وہ یہ ہے کہ عورت کا بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا۔ صحیح جامع صغیر کی روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”بغیر عذر کے خلع لینے والیاں اور اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے والیاں، گھر اجاڑنے والیاں یہ اس امت کی منافق ہیں ۔دوسری روایت میں فرمایا! جس عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر جہنم واجب اور یہ جنت کی خوشبو نہیں “سونگھیں گی۔ اس لئے میری پیاری بہنو !یہ کہنا یا یہ عذر پیش کرنا کہ میرا خاوند مجھے پسند نہیں ہے یا اس کی انکم بہت کم ہے میرا گزارہ نہیں ہوتا اس لئے مجھے طلاق چاہیے تو یہ کو ئی شرعی عذر نہیں ہےمزید پڑھیں:میاں بیوی کا اکٹھے غسل کرنااس لئے اس سنگین جرم اور گناہ سے بچنا چاہیے اور والدین کو چاہیے کہ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بیٹیوں کو گھر نہ بٹھا لیں ۔طلاق شوہر کا حق ہے اور یہ کتنی بری بات ہے کہ طلاق بیٹی ڈیمانڈ کر رہی ہے۔

تیسرا گناہ جو میاں بیوی کے تعلقات میں عام طور ہر ہوتا ہے اور اس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ کہ ، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ملنا یا ایسی جگہ سے(پچھلے حصے سے) ملنا جو کہ غیر فطری ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا! جامع ترمذی کی یہ روایت ہے،”جس شخص نے حیض والی عورت سےملنا یا عورت کے پیچھے سے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی (سچ مانا) تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔” یعنی وہ شریعت کا منکر ہے اس نے شریعت کا انکار کیا جس نے یہ عمل کیا۔اس کے لئے شریعت نے کفارا کا حکم دیا ہے اور یہ بہت سنگین جرم ہے لیکن اس کو لوگ سمجھ ہی نہیں پا رہے اور اس بات کو کوئی سیریس لینے کو ہی تیار نہیں ہے کہ نکاح سے پہلے اس کے آداب اور ازدواجی زندگی کے متعلق سیکھا جائے۔دنیا جہان میں ہر چیز کی ٹرینینگ ہوتی ہے وہ ہم لوگ بڑے فخر سے کرتے ہیں مزید پڑھیں: جنابت کے بعد سونے سے قبل وضو یا غسل لیکن جب بات شریعت سیکھنے کی آتی ہے تو وہاں کیا ہے جی کہ ہمیں شرم آرہی ہے۔ دنیا کی بے حیائی میں شرم نہیں آتی لیکن شریعت سیکھتے ہوئے یا شریعت کی بات کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔ چوتھا گناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہےکہ کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت(اکیلے) میں ملاقات کرنااور کسی غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانا یہ بہت سخت گناہ ہے ،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا!جامع ترمذی کی روایت ہے ،”جب بھی کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ملتا ہےتو وہ دو نہیں ہوتے تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے” اور آپ ﷺ نے فرمایا! “تم میں سے کسی شخص کے لئے کیل لے کر اپنے سر میں ٹھونک لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی غیر محرم کو چھوئے” (جامع صغیر)۔۔۔۔

اور ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ چھونا تو ایک معمولی بات ہے یہاں تو پورا ہاتھ ملا لیا جاتا ہے۔ایک بار ایک خاتو ن جس کو شریعت کا علم نہیں تھا وہ مدینہ آپ ﷺ سے بیعت لینے آئی اور آپﷺ کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا آپ ﷺ نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور فرمایا!”محمد ﷺ کسی عورت کے ہاتھ کو چھونا تو دورکسی عورت کے ننگے ہاتھ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔اور آپﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔”اللہ تعالیٰ سے دعا ہے

About admin

Check Also

بارہ ربیع الاول کا وظیفہ – اللہ ہر حاجت پوری کرے گا انشاء اللہ

981 ماہِ ربیع الاول شریف کے لیے خصوصی ہدایات: ربیع الاول شریف کے مقدس مہینے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *