Home / Islamic / ربیع الاول کا بابرکت چاند ایمان افروز وظیفہ

ربیع الاول کا بابرکت چاند ایمان افروز وظیفہ

ربیع الاول ایک بابرکت ماہ ہے اس ماہ میں اپ کے اور ہمارے محبوب حضورﷺ دنیا میں تشریف لےکر اے اس ماہ مبارک میں ہم مسلمانوں اور دنیا کی ہر مخلوق پر الله پاک کا خاص کرم ہوا کے الله پاک نے اپنے محبوب پاک حضورﷺ کو دنیا میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے بھجا اور آقا حضورﷺ کے صدقہ سے ہم کو دین اسلام ملا اور الله پاک کی پہچان ہوئی اور گناہوں سے انسان نیکی کی طرف آیا اس ماہ مبارک میں ہم کو زیادہ سے زیادہ وظائف کرنے چاہئیے اور درود پاک پڑھنا چاہئیے آج ہم آپکو ایک وظیفہ بتائیں گے اس مزید پڑھنے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں

کاروبار میں ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ حلال و حرام کی تمیز کی جائے۔ ناپ تول میں کمی نہ کی جائے۔ دھوکہ، فراڈ اور ملاوٹ نہ کی جائے۔ یعنی کاروبار کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور اصول و ضوابط سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ اور مکمل دیانتداری سے کاروبار کریں۔ حلال اور حرام میں فرق کریں تو کاروبار میں ترقی بھی ہو گی اور برکت بھی ہو گی۔ اس کے علاوہ درج ذیل وظیفہ کو اپنا معمول بنا لیں جس سے اللہ تعالی وسعت رزق سے نوازے گا اور فقر و فاقہ سے محفوظ رکھے گا۔ اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھ کر ’’یارزاق‘‘ کا ورد 100 مرتبہ کریں۔ اس وظیفہ کو حسب معمول 11 یا 40 دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وظیفہ کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی کریں اور تلاوت قرآن کا معمول بنائیں اور بکثرت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجیں واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن جوانی کے نشے میں ،میں نے سفر میں بڑی تیزی دکھائی اور تھک ہار کر رات کے وقت ایک ٹیلے کے دامن میں جا لیٹا۔ ایک بوڑھا ضعیف جو قافلے کے پیچھے پیچھے آرہا تھا، کہنے لگا: بیٹھے کا ہے کو ہو، میاں یہ بھی کوئی سونے کی جگہ ہے۔ میں نے کہا چلوں تو کیسے، مجھ میں دم نہیں۔ بوڑھے نے کہا: کیا تم نے دانائوں کا قول نہیں سنا کہ آہستہ چلنا اور کبھی کبھار دم بھر کے لیے سستانا، بھاگنے اور تھک ہار کر بیٹھ جانے سے ہزار درجے بہتر… شیخ سعدیؒ فرماتے ہیںکہ ایک درویش کی بیوی حاملہ تھی اور وضع حمل کا وقت قریب آرہا تھا۔ اس بے چارے کے ہاں عمر بھر کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی تھی۔ اس نے منت مانی کہ اگر خداوند تعالیٰ مجھے بیٹا عطا کرے ،تو میں اپنے تن کے ان کپڑوں کے علاوہ باقی سب کچھ اس کی راہ میں مسکینوں اورمحتاجوں کو دیدوں گا۔اتفاق کی بات کہ اس کے ہاں بیٹا ہوا۔ اپنی منت کے مطابق اس نے خوان کرم بچھایا۔ میں مدتوں شام کی سرزمین میں گھومتا رہا۔ کئی سالوں کے بعد جب سفر سے واپس آیا، تو اس محلے سے گزر ہوا۔ میں نے لوگوں سے اس کا حال احوال پوچھا۔ کہنے لگے، وہ تو کوتوالی کی حوالات میں ہے۔ میں نے وجہ پوچھی، تو بتایا گیا کہ اس کے بیٹے نے شراب پی کر نشہ میں دُھت ہو کر خرمستی کی اور کسی کو موت کے گھاٹ اُتار کر خود بھاگ نکلا۔ اب اُس کی جگہ باپ کے پائوں میں بیڑیاں اور گلے میں طوق ہے۔ میں نے کہا اس بلا کو تو اُس نے دعائوں اور منتوں مرادوں سے پایا تھا

About admin

Check Also

بارہ ربیع الاول کا وظیفہ – اللہ ہر حاجت پوری کرے گا انشاء اللہ

981 ماہِ ربیع الاول شریف کے لیے خصوصی ہدایات: ربیع الاول شریف کے مقدس مہینے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *