Home / Islamic / حوض کوثر کے برتنوں اور وصف کا بیان

حوض کوثر کے برتنوں اور وصف کا بیان

حوض کوثر کے برتنوں اور وصف کا بیان!!

حضرت ابوذرؓ کہتـے ہیـں کہ!! میں نے عـرض کیا اللہ کـے رســــــولﷺ حــــوض کوثر کے برتن کیسـے ہیـں؟

آپ ﷺ نے فـرمـــــــایا!! قسـم ہے اس ذات کی جس کے ہاتـھ میں میــری جــان ہے یـقیناً اس کے برتن تاروں سـے بھی زیادہ ہیـں اس تاریک رات میـں جس میـں آســـمان سـے بادل چـــھٹ گیا ہو، اور اس کے پیـالے جنت کے برتنـوں میـں سـے ہوں گــے اس سے جـــــو ایک مـــرتبہ پی لـے گا وہ کبھـی پیـاسا نـہ ہو گا، اس کی چــــوڑائی اس کی لمـبائی کـے برابر ہے، اس کا فــــــاصـلہ اتنا ہـے جتـنا عـمان سے ایلہ تک کا فـــاصلہ ہے، اس کا پانی دودھ سـے زیادہ ســفید اور شـہد سے زیادہ میـٹھا ہـے“۔
سبحان اللّٰہ !!
ابن عمـرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فـرمـــــــایا ”میـرے حوض کا فـــاصلہ اتـنا ہے جتنا کـوفہ سـے حجر اسود تک کا فـــاصلہ ہـے“۔ قیامت کے دن ہر نبی کے لئے ایک حوض ہو گا اور ہر نبی کی امت کی الگ الگ پہچان ہو گی، ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حوض کا نام کوثر ہے، خالد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ! آپ ﷺ نے فرمایا!!
کیا تم جانتے ہو “کوثر” کیا ہے؟ یہ ایک جنت کی نہر ہے جو مجھے میرے رب نے عطا کی ہے، اس میں بہت ہی خیر ہے، میری امت اس سے پانی پیئے گی، اس کے آبخورے تاروں کی تعداد میں ہیں، اس حوض پر سب لوگوں سے پہلے میرے پاس پہنچنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے، پریشان و پراگندہ سروں والے، میلے کچیلے کپڑوں والے، جن کا نکاح خوش حال و خوش عیش عورتوں سے نہیں ہو سکتا اور جن کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
حوض کوثر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے پانی پینے والے خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے!!

{إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا}
اگر تم منع کردہ کبیرہ گناہوں سے بچو تو ہم تمہارے گناہ مٹا کر عزت کی جگہ میں داخل کر دینگے۔[النساء : 31]

لوگوں میں سے بعض کو حوض سے دور ہٹایا جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ!! نبی کریم ﷺ نے فرمایا!
“میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر رہوں گا۔ کچھ لوگ میرے سامنے آئیں گے پھر انہیں مجھ سے دور ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا! اے میرے رب!
یہ میرے ساتھی یعنی امتی ہیں تو کہا جائے گا! آپ کو پتہ نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات گھڑی تھیں” (صحیح البخاری:۶۵۷۶) (سنن ترمذی2445)

About admin

Check Also

بارہ ربیع الاول کا وظیفہ – اللہ ہر حاجت پوری کرے گا انشاء اللہ

985 ماہِ ربیع الاول شریف کے لیے خصوصی ہدایات: ربیع الاول شریف کے مقدس مہینے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *