Home / Islamic Stories / حضرت غوث اعظم اور ایک فقیر کا رولادینے والا واقعہ

حضرت غوث اعظم اور ایک فقیر کا رولادینے والا واقعہ

بچپن کا زمانہ گلی سے گزر رہے ہیں روزانہ کانوں میں ایک آواز آتی ہے کوئی پکارنے والا بڑی درد بھری آواز میں پکارتا سوال کرتا عجیب سوال ہے سوال سن کر حیران ہو جاتے ہیں سوال کرنے والا کرتا ہے کہ عبدالقادر عاشق بننا چاہتے ہو یا محبوب بننا چاہتے ہیں یہ سوالاتی جاتے جاتے فرماتے بیٹا اس گلی کے کونے پر ایک بابا بیٹھا ہے اس سے جا کے سوال کا جواب پوچھ لے اس سوال کا جواب پوچھ وہ تمہیں اس سوال کا جواب بتا کر دے گا اس کے علاوہ کسی کے پاس اتنی مجال نہیں کہ تیرے سوال کا جواب دے سکے اس کے پاس چلا جا ایک دن اپنے بابا کے پاس گئے

اور جا کر کہنے لگے بابا جی میں روزانہ گلی سے گزرتا ہوں کوئی کہنے والا میرے کانوں میں آواز ڈالتا ہے اور مجھ سے سوال کرتا ہے عبدالقادر بتا محبوب بننا ہے کہ ایک بندہ ہے اس سوال کا جواب دے دیں اس سننے والے نے جب سوال سنا تو آنکھوں سے آنسو آ گئے اور کہنے لگے بیٹا عبدالقادر کل انا کل ہم خود تیرے سوال کا جواب بن جائیں گے سوال کا جواب بن جائیں گے یہ بات کہی حضور غوث اعظم کا بچپن ہے اگر آگئے اگلے دن کا جواب دینے کے لئے اس جگہ پہ جا کے دیکھا وہ شخص موجود نہیں ہے لوگوں سے پوچھا کہ یہاں پر ایک بابا جی بیٹھے تھے ان سے میں نے سوال کا جواب دینا تھا اور آج کل کا وعدہ تھا وہ کہاں ہے لوگوں نے کہا کہ وہی اس کا تو انتقال ہو گیا بیٹے وہ تو دنیا سے چلا گیا لوگوں نے اس کے بعد اس کے دین کے بارے میں علم نہیں تھا وہ تو وہ کون ہے تو لوگوں نے اس وجہ سے اس کو جنگل میں پھینک دیا ہے اس کو کفن دفن بھی نہیں دیا اس نے تو سوال کا جواب دینا تھا اور وہ بابا دنیا سے جاچکا ہے اور لوگوں نے دفنایا بھی نہیں کفن بھی نہیں دیا اس کو غسل بھی نہیں دیا اس کا جنازہ بھی نہیں پڑا اس کو دفن بھی نہیں کیا یہ عجیب منظر تھا ایک شخص سے پوچھنے لگے کہ میں نے اس سے ملنا ہے وہ کام لے گا اس نے کہا کہ فلان جنگل میں چلے جائیں وہاں پر آپ کو مل جائے گا اس جنگل میں پھینک آیا ہے غوث اعظم چلتے چلتے جنگل میں پہنچے شہر سے باہر چلے گئے کیا دیکھا رہی ہے اور جانور نوچ نوچ کے کھا رہے تھے اس کے جسم کو لوٹا جا رہا ہے آپ قریب کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اور دنیا سے جانے والے میں نے تو سنا تھا کہ دنیا دار وعدے کی بے وفائی کرتے ہیں تم دیندار ہو کر بھی وعدے کی بیوفائی کر گئے تم نے تو میرے سوال کا جواب دینا تھا اور جواب دیے بغیر چلے گئے یہ کیا ہوا اور عزم کی بات زبان پر جاری ہوئی تو رب کائنات نے اس کے لبوں پر مسکراہٹ عطا کردی

وہ جس کے جسم کو جانور نوچ رہے تھے اس کے لبوں کو رب کائنات نے مسکراہٹ عطا کردی اور کہنے لگے عبدالقادر میں نے کہا تھا بھلانا ھم خود تیرے سوال کا جواب بن جائیں گے تو اتنے سوال میں مستغرق تھا اور اتنی محبت میں کے اندر گرفتار تھا کہ تو نے میرے سوال کے جواب پر غور نہیں کیا ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم جواب دیں گے ہم نے تو کہا تھا ہم خود جواب بن جائیں گے اے عبدالقادر تو کہتا ہے کہ محبوب بنے یہ اشک میں نے ہاں اگر محبوب بننا ہے تو محبوب بننے کے لیے ناز و نخرے اٹھائے جاتے ہیں اگر عاشق بننا ہے تو عشق بننے کے لئے اس منزل سے گزرنا پڑتا ہے عشق بننے کے لیے اس منظر سے گزرنا پڑتا ہے کسی کا کیا حال ہوتا ہے یہ تیرے سامنے عشق کا حال ہے پیرغوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے جب کائنات نے مجھے اس مقام پر فائز کر دیا اللہ نے وہ عظیم نعمتیں عطا کر دی رب کائنات نے وہ مقام عطا کردیا کہ یہ اثر عزم جب بغداد کی گلیوں سے گزرتا ہے میرے کانوں میں فرشتوں کی آواز آتی ہے فرشتے میرے دائیں بائیں ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ایک گلی میں چلنے والو راستہ چھوڑ دو وقت کا ہسنا تمہارا ہے وقت کا حوصلہ آزما رہا ہے تو میرے لئے راستے صاف کر دیے جاتے ہیں یہ مقام اس وقت ملا جب آپ نے خود لفظ تصوف کی تعریف بیان کی اور ولی ہونے کا ڈنگ عطا کردیں یا حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی نے سوال کیا تو حضور تصوف کیا ہے تصوف سے مراد ولی بننا بندہ بننا میں شامل ہونا صوفی بننا چاہتا ہے اور اگر ولی بننا چاہتا ہے رب کا محبوب بندہ بننا چاہتا ہے تو آتا تو یہ درس دیتی ہے کہ توبہ کر سابقہ گناہ چھوڑ دے وہ تیری رات میں میرے شب و روز تیری تنہائیاں تیری اجتماعی زندگی میری انفرادی زندگی تو گناہوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی تھی جو تو نے صبح شام رب کی نافرمانی میں گزاری جو چھپ کر گناہ کرتا زاہرہ گناہ کرتا جس جس لمحے تو گناہ کرتا تھا اگر صوفی بننا چاہتا ہے تو سب گناہوں سے توبہ کرلی اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرلی اور حضرت فاروق اعظم سے کسی نے پوچھا توبہ کس چیز کا نام ہے آپ نے فرمایا کہ توبہ توبہ النصوع یعنی جس طرح بکری کے تھن سے دودھ نکال لیا جائے تو دوبارہ اس دودھ کو تھانوں میں داخل نہیں کیا جا سکتا اسی طرح انسان اس گناہ سے توبہ کرے وہ کام کرنے کے دوبارہ تصور نہ کرے خیال نہ کرے گمان نہ کرے تو گمان نہ کرنا خیال تک نہ لانا اس چیز کا نام توبہ ہے فرما سکو تو بہ کہتے ہیں

انسان سب سے پہلے توبہ کریں مزید فرماتے ہیں کہ تصوف کا دوسرا حرف لفظ تصوف کا ثواب ہے اور انسان کو یہ عطا کرتا کہ انسان جب تک توبہ کرے گا تو توبہ کرنے کے بعد پھر تم کام میں سندھ کے بھی آئے گا اللہ کریم تیرے جن کو صاف کر دے گا تجھے روحانیت عطا کرے گا اور تیرے دل کیوں پر لگنے والے اس محل کو اس جیل کو اور اس زنگ آلود دل کو اللہ اپنے نور سے اور توبہ کے فائدے اور استغفار کے فیصلے اور آپ کی بارگاہ میں رونے سے اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے فیض سے اللہ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی توبہ کرنے کے فیصلے اللہ کریم تیرے دل کو صاف کر دے گا اور پھر رب کائنات میں ہے مقام اس دھک عطا کرے گا جب انسان مقام اسد کیسے پہنچتا ہے فیروز غوث العظم مزید فرماتے ہیں کہ تیسرا درجہ ولایت کا کیا ہے توبہ کرنے کے بعد سندھ کے ملتا ہے اور جب سندھ کے نصیب ہوتا ہے تو پھر تصوف کا تیسرا حرف واو ہے اور واؤ کے تئیں اے بندے تو نے توبہ کرلی اس سے تشدد کا مل گیا ہو گیا اب تو صاف ہو گیا ہو گا اتنا ہی کرنا تھا عرب نے مقامی ولایت پر فائز کرتی ہے اولاد کے لے جاتی ہے انسان عرب کا ولی بن جاتا ہے اور جب انسان رب کابلی بنتا ہے کہ اللہ کریم فرماتا ہے الا انا اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون اور پھر آواز آتی ہے انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنو اللہ بھی ولی ہے اس کا رسول اور ایمان والے بھی زابل ولایت مقام پہ چلا جاتا ہے کہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے جب انسان مزید ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے روز روز فرماتے ہیں کہ تصوف کا آخری حرف فا انسان کو مقام فنا کے لیے جاتی ہے انسان مقامی صنعت چلا جاتا ہے اور انسان جب مقام فنا کے چلا جائے اور انسان رب کائنات کی بارگاہ میں جب فنا ہوتا ہے پھر آتی ہے کل من علیہا فان ہر چیز فانی ہے صرف اس کی ذات باقی رہے گی خدا کی قسم انسان جب توبہ سے آغاز کرتا ہے پھر مقام عصمت پہ آتا ہے پھر مقام پر آتا ہے پھر مقام پر آتا جاتا ھے اور جب انسان مقام فنا کے پہنچتا ہے پھر آواز آتی ہے بندے ہم میری محبت میں آ کر دنیا دنیا کو چھوڑ دیا تو نے ایک ایک چیز کو چھوڑ دیا اور میری محبت میں فنا ہو گیا ہے اب میں تجھے فانی نہیں رکھوں گا بلکہ اپنی محبت میں آ کر تجھے مقام معافی عطا کردوں گا

About admin

Check Also

جس گھر میں نماز و تلاوت قرآن نہیں کی جاتی وہاں کیا ہوتا ہے؟ عبرتناک واقعہ

172 کئی دنوں سے میں محسوس کررہی تھی کہ صبح بستر سے اٹھتے ہوئے میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *