Home / Islamic Stories / ایک عورت نے حضور کو زہر دے دیا حضورﷺ نے اس عورت کےساتھ کیا سلوک کیا؟

ایک عورت نے حضور کو زہر دے دیا حضورﷺ نے اس عورت کےساتھ کیا سلوک کیا؟

جب خیبر فتح ہوا تو ایک یہودیہ عورت نے نبی کریمؐ کے لیے کھانا بھجوایا جس میں زہر تھا۔ اللہ کے نبیؐ نے ایک ہی لقمہ منہ میں ڈالا کہ فوراً پہچان لیا، لیکن زہر نے اپنا اثر کر دیا۔ یہودیہ عورت کو پکڑا گیا اور اس نے اپنا جرم تسلیم بھی کرلیا، لیکن اس نے معافی مانگ لی۔

اللہ کے حبیبؐ نے اس یہودیہ عورت کو بھی معاف فرما دیا۔ جب مکہ فتح ہوا تو ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کو بہت ڈر تھا کہ میرے والد نے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا اب اس کا خمیازہ مجھے بھگتنا پڑے گا۔

چنانچہ یہ فتح مکہ کے دن وہاں سے بھاگ گئے۔ ان کی بیوی حضرت ام حکیمؓ نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کلمہ پڑھ لیا۔ مسلمان ہونے کے بعد کہنے لگیں۔ جی آپ میرے خاوند کو بھی معاف فرما دیجئے۔

نبی کریمؐ نے ان کو بھی معاف کر دیا۔اب ام حکیمؓ اپنے خاوند کو تلاش کرنے کے لیے نکلیں۔ جب ایک جگہ دریا کے کنارے پر پہنچیں تو پتہ چلا کہ خاوند کشتی کے ذریعے ابھی یہاں سے روانہ ہوا ہے۔ انہوں نے بھی کشتی کرایہ پر لے لی اور ملاح سے کہا کہ ذرا جلدی چلو کہ مجھے اگلی کشتی میں سوار ایک آدمی سے ملنا ہے۔

چنانچہ دریا میں کشتی کے سامنے کشتی لائی گئی اور انہوں نے اپنے خاوند سے پوچھا: جی آپ کہاں جا رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ کہا کہ میں آپ کی جان کی امان لے کر آئی ہوں، چلیں اپنے گھر چلتے ہیں، وہیں زندگی گزاریں گے۔چنانچہ عکرمہ واپس آ گئے اور نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آئے۔

ابھی دور ہی تھے کہ ایک صحابی کی نظر پڑی تو وہ صحابیؓ دوڑ کر نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپﷺ کو بتائیں کہ ابوجہل کا بیٹا آیا ہے۔ وہ اتنا بڑا دشمن ہے۔ نبی کریمؐ لیٹے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان صحابیؓ نے کہا کہ جی عکرمہ آئے ہیں تو نبی کریمؐ جلدی سے اٹھے،

سر پر عمامہ رکھنے کا وقت بھی نہ ملا اور فوراً باہر نکل کرفرمایا:’’اے مہاجر سوار! تیرا آنا مبارک ہو۔‘‘ ابوجہل وہی تھا جس نے نبی کریمؐ کو شہید کرنے کی پلاننگ کی تھی۔ اس کے بیٹے کے ساتھ بھی ایسا عفو و درگزر کا معاملہ۔۔۔!!! ابو سفیانؓ کو دیکھ لیجئے۔

نبی کریمؐ کو شہید کرنے کے مشورے میں بھی وہ موجود تھے اور غزوۂ خندق کے موقع پر تو وہ کافروں کے بہت بڑے لیڈر بن کر آئے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمؐ نے ان کو بھی معاف کر دیا اور ساتھ یہ بھی فرما دیا:

من دخل دار ابی سفیان فھو آمن(جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گیا وہ بھی امان پا گیا)۔اللّہ تعالٰی ہمیں بھی پیارے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین.

About admin

Check Also

کبوتر کے دونوں پائوں اور حضرت نوح علیہ اسلام کا تعلق

820 طوفان نوح گزر جانے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *